انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 523 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 523

۵۲۳ سورة الجن تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث پس اگر عارضی جنت کا عقیدہ درست ہو تو پھر یہ بخا ہے۔انسانی فطرت یہ کہتی ہے کہ اُس پر ظلم ہو گیا کیونکہ انسان کی طاقتیں محدود تھیں اور اُسے محدود زمانہ دیا گیا اگر تو غیر محدود زمانہ دیا جا تا تو پھر غیر محدود عمل ممکن ہوتے اور غیر محدود جنت ہو جاتی اور آپس میں CLASH ( کلیش ) ہو جاتا کیونکہ دو غیر محدود تھے۔انہوں نے ایک دوسرے سے سر ٹکر ا دینے تھے۔جو عقلاً درست نہیں ہے مضمون دقیق ہے مگر جو سمجھنے والے ہیں وہ سمجھ جائیں گے دو غیر محدود ایک دوسرے کا نتیجہ نہیں ہو سکتے کیونکہ نتیجہ انتہاء ہوتا ہے۔غیر محدود ابتلاء اور امتحان کا زمانہ اور غیر محدود جزاء اور جنت۔یہ بات عقل میں نہیں آتی۔پس اگر غیر محدود جنتیں ہیں جن کی انتہاء کوئی نہیں تو عمل محدود ہی ہونے تھے اور جنت غیر محدود ہو گی ، رحمت الہی غیر محدود ہو گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) خدا تعالیٰ کی رحمت کے مقابلے میں زمانہ کیا چیز ہے۔یہ تو اس کی ایک پیداوار ہے لیکن اس کی رحمت کی موجیں تو اس کی ہر پیداوار کے اوپر سے گذر رہی ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہر چیز اور ہر مخلوق کا احاطہ کیا ہوا ہے۔لیکن ہماری فطرت اور ہماری شریعت ہر دو ہمیں یہی کہتی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہر چیز کے اوپر حاوی ہے۔اس واسطے کہ اگر ہماری فطرت یہ نہ کہتی تو محدود عمل کی غیر محدود جزاء کی توقع اور اُمید ہم کیسے رکھتے۔خدا تعالیٰ نے ہماری فطرت کے اندر یہ ڈالا ہے کہ یہ تو ٹھیک ہے تمہیں تھوڑی عمر دی گئی ہے، تمہیں تھوڑے وسائل دیئے گئے ہیں لیکن تمہیں ایک بشارت دے دیتے ہیں کہ اگر تم اپنی اس تھوڑی زندگی میں، اس چھوٹی زندگی میں ، خلوص نیت کے ساتھ اور کامل توحید پر قائم ہوکر اور شرک کے ہر پہلو سے بچتے ہوئے محدود عمل کرو گے تو تمہیں غیر محدود جزا مل جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں بھی یہی رکھا ہے اور شریعت سے بھی یہی کہلوایا ہے۔پس یہ اسلامی شریعت ایسی شریعت ہے کہ جو آدمی اس پر ایمان لاتا ہے اُسے یہ خطرہ لاحق نہیں ہوتا کہ اس پر ظلم ہوگا اور وہ گھاٹے اور نقصان میں رہے گا۔قرآن کریم نے مختلف پہلوؤں سے اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے اور بڑے پیارے رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔قرآن کریم نے ظلم کے متعلق تو یہ اعلان کر دیا: وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (ق:۳۰) اور اس قسم کی اور بھی بہت سی آیات ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔تو اس سے انسان کی تسلی ہو