انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 522 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 522

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ترقی کے مدارج طے کرواتی ہے۔۵۲۲ سورة الجن جیسا کہ بڑی وضاحت اور تشریح کے ساتھ دوسری جگہ بیان ہوا ہے کہ انسان کو روحانی طور پر ترقیات کی منازل میں سے گزار کر آدم، پھر نوح ، پھر موسی اور پھر سینکڑوں اور جو شارع نبی ہوئے ہیں علیہم السلام۔اُن کے زمانے میں انسان کی روحانیت درجہ بدرجہ ترقی کر رہی تھی۔بالآخر اللہ تعالیٰ انسان کو اس ترقی کے مقام پر لے آیا کہ وہ کامل اور مکمل شریعت کا حامل بن سکتا تھا۔ربوبیت کے معنی میں یہ بات آتی ہے کہ اگر انسان ترقی کرے ( اور عقل اور تاریخ کہتی ہے کہ انسانیت نے ترقی کی ) اور کسی ایک منزل پر جا کر آگے راہنمائی کے لئے اگر کوئی ٹور آسمان سے نازل نہ ہو، کوئی نئی شریعت نہ آئے کہ اس کے نئے تقاضوں کو اور بڑھی ہوئی طاقتوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو تو گویا اس کو رب پر ایمان نہیں ہے۔وہ تو سمجھے گا کہ رب ہے ہی نہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔غرض رب پر ایمان در اصل وہی ہے جس کا اَلحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ میں ذکر کیا گیا ہے کہ ساری تعریف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتی ہے اور اسی سے ہر تعریف کا منبع پھوٹتا ہے۔انسان کی جب درست تعریف ہو تو اُسے سمجھنا چاہیے کہ اسے حمد کا جو مقام ملا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے اگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی شخص مغضوب اور ملعون اور دھتکارا ہوا ہو تو دُنیا کی طاقتیں اُسے حقیقی عزت نہیں پہنچاسکتیں یہ تو ایک دھوکا ہے، سراب ہے۔کئی لوگ بہک جاتے ہیں کئی بچ جاتے ہیں لیکن بہر حال حقیقی عزت اور تعریف کا استحقاق خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار اور رحمت کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے ور نہ حمد کا اور تعریف کا استحقاق پیدا ہی نہیں ہوتا۔سب دھوکا اور سراب ہے۔اس لئے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے رب پر ایمان لاتا ہے۔فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَ لَا رَهَقًا اس کو نہ بخس کا کوئی خوف رہتا ہے اور نہ رھق کا کوئی خوف رہتا ہے۔بخس کے معنے ہیں ظلم کر کے کسی کو نقصان پہنچانا مگر جو شخص مومن ہوتا ہے اس کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور جس طرح دوسرے مذاہب کا عقیدہ ہے کہ ایک دفعہ جنت میں لے جائے جانے کے بعد پھر جنت سے نکال دیا جائے گا۔شریعت محمدیہ پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے نتیجہ میں وہ جنت نہیں ملتی جس سے انسان نکالا جاتا اور دھتکار دیا جاتا ہے اور اُسے یہ کہا جاتا ہے کہ پھر از سر نو کوشش کرو اگر تم مستحق ٹھہرے تو تمہیں جنت مل جائے گی۔