انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 521 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 521

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۲۱ سورة الجن ہیں پھر انگلی کے ساتھ تعلق رکھنے والا ایک حکم یہ بھی ہے کہ کسی کے دل دُکھانے والی بات اپنی قلم سے نہیں لکھنی۔پس شریعت محمدیہ کے سارے احکام کامل اور مکمل طور پر انسان کے تمام اجزاء اور اس کے اعمال پر حاوی ہیں۔انسان کو یہ بتادیا گیا ہے کہ یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا۔غرض انسان کے جو اعمال ہیں، جن کے بجالانے کی اللہ تعالیٰ نے اُسے طاقت دی ہے وہ بھی گواہی دیں کہ دل نے واقعی تصدیق کی ہے اور زبان نے جو اقرار کیا ہے وہ منافقانہ اقرار نہیں ہے۔وہ احمقانہ اقرار نہیں ہے۔وہ مصلحت بینی کے نتیجہ میں اقرار نہیں ہے بلکہ انسان نے ایک حقیقت کو دیکھا، پر کھا، سچا پایا اور اس کا اقرار کیا اور دل نے اس کی تصدیق کی اور پھر انسان سر سے لے کر پاؤں تک اُس پر قربان ہو گیا۔یہ ایمان ہے۔اس آیت کے دوسرے حصے میں اسی معنے میں ایمان کا لفظ استعمال ہوا ہے مثلاً یہ ایمان ہے کہ روزے رکھو۔روزوں کا مہینہ اب ختم ہورہا ہے لوگوں نے روزے رکھے، سوائے بیمار اور معذوروں کے جولوگ بیماری اور معذوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے محسوس تو وہ بھی کرتے ہیں دُکھ وہ بھی اُٹھاتے ہیں۔جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ بھوک کا دُکھ اُٹھاتے ہیں اور جو روزہ نہیں رکھتے بوجہ معذوری، وہ روزہ نہ رکھنے کا جو طبیعت میں ایک دُکھ پیدا ہوتا ہے، وہ اُسے برداشت کر رہے ہوتے ہیں۔غرض دونوں تکلیف میں سے گذر رہے ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہ جس نے روزہ نہیں رکھا ( در آنحالیکہ وہ مومن ہے اور اس کی نیت بھی ہے ) اُس نے روزے کا جسمانی اور ظاہری دُکھ نہیں اُٹھایا۔ایک ظاہری تکلیف تو ہے جو روزے دار خدا کی خاطر اٹھاتے ہیں لیکن جو بیماری اور معذوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا شاید اُس نے زیادہ دُکھ اُٹھایا اور اگر زیادہ اُٹھایا تو شاید وہ ثواب کا بھی زیادہ مستحق ہو گیا۔واللہ اعلم۔اللہ تعالیٰ ثواب دیتا ہے ہم تو اس کے او پر کوئی حکم نہیں لگا سکتے۔پس فرمایا کہ جو شخص دوسرے حصہ آیت میں بیان کردہ ایمان کے مطابق اپنے رب پر ایمان لا یا اور رب پر ایمان لانے کے مفہوم کے اندر حقیقت شریعت محمدیہ پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر ایمان اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان آ جاتا ہے کیونکہ رب کے معنے ہیں پیدا کر کے درجہ بدرجہ اور تدریجاً ترقی دینے والا یعنی وہ ہستی جو نشو و نما دے کر انسان کو