انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 520
تفسیر حضرت خلیفتہ المسح الثالث ۵۲۰ سورة الجن قرآن کریم کی آیات کے فقرے کے فقرے استعمال کرتے ہو۔وہ کہنے لگا۔میں عیسائی تو ہوں لیکن قرآن کریم کی عربی سے ہم بچ نہیں سکتے۔یہ ہمارے ذہنوں اور زبان پر بڑا اثر کرتی ہے۔پس قرآن کریم کی عربی یا قرآن کریم کی اصطلاح میں امام راغب کے نزدیک ایمان کے کبھی یہ معنے ہوتے ہیں کہ زبان سے اس بات کا اقرار کیا جائے یعنی آدمی یہ کہے کہ میں شریعت محمدیہ کو قبول کرتا ہوں اور اُس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جسے قرآن کریم اور اسلام نے پیش کیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زبان سے اقرار کرتا ہوں۔ایسا آدمی مومن ہو جاتا ہے۔اس آیت کے پہلے فقرے میں ایمان کا لفظ اسی معنے میں استعمال ہوا ہے کہ ہم نے اس شریعت اور ہدایت کو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو رہی ہے اس کو ٹنا اور اُس پر ایمان لے آئے۔اس آیت کے دوسرے ٹکڑے میں ایمان کا لفظ ایک اور معنے میں استعمال ہوا ہے اور وہ اس معنے میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندے کی مدح کرتا ہے یعنی اس کی صفت بیان کرتا ہے اور کبھی اس کو اس بات پر جوش دلاتا ہے کہ تمہیں ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے اور اس معنے میں ایمان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زبان سے اقرار کرنا اور دل سے ( اپنے اقرار کے مطابق ) شریعت محمدیہ یعنی اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقتا وہی سمجھنا جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور جس کا زبان سے اقرار کیا گیا ہے اور یہ دل سے سمجھنا یعنی یہ نہ ہو کہ زبان پر کچھ ہو اور دل میں کچھ اور ہو اور پھر بے عمل نہیں رہنا کیونکہ انسان کے سارے اعضاء پر اسلامی شریعت حاوی ہے۔شریعت کے کسی حکم کا تعلق اس کی آنکھ سے ہے اور کسی کا تعلق اس کی زبان سے ہے جبکہ وہ بول رہی ہوتی ہے اور کسی حکم کا تعلق اس کی زبان سے ہے جبکہ وہ چکھ رہی ہوتی ہے مثلاً فرمایا سور نہیں کھانا یا فرمایا کہ خون نہیں کھانا۔اب یہ اُس زبان سے تعلق نہیں رکھتا جو بول رہی ہوتی ہے بلکہ اس کا اُس زبان سے تعلق ہے جو چکھ رہی ہوتی ہے۔کسی حکم کا تعلق انسان کے کان سے ہے اور کسی حکم کا تعلق اس کے دماغ سے ہے یعنی کسی کے متعلق برائی سوچینی بھی نہیں۔یہ امر اس کے دماغ سے تعلق رکھتا ہے۔دماغ بھی جسم کا ایک حصہ ہے۔اسی طرح انسانی جسم کے مختلف حصوں مثلاً اس کی ٹانگوں پر، اس کے ہاتھوں پر یا اس کی انگلیوں پر شرعی احکام کا اطلاق ہوتا ہے۔انگلیوں کے متعلق مثلاً یہ حکم ہے کہ کوئی چیز تولتے وقت انگلی کو تھوڑا ساخم دے کر کچھ واپس نہیں لے لیتا اور یہ حکم دکانداروں کے لئے ہے۔کئی دکاندار ایسا گناہ بھی کر جاتے