انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 519
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۵۱۹ سورة الجن بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الجن آیت ۱۴ وَانَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَى أَمَنَّا بِهِ فَمَنْ يُؤْمِنُ بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسَاوَلَا رَهَقان سورہ جن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ (جس گروہ کے لوگوں کا وہاں ذکر ہے انہوں نے واپس جا کر اپنے ساتھیوں سے یہ کہا کہ ) ہم نے ایک کامل ہدایت اور شریعت کو نا اور ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں۔ایمان کا لفظ عربی زبان میں مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔اس حصہ آیت میں ایمان کے لفظ کا تعلق صرف زبان کے اقرار سے ہے۔مفردات راغب میں ہے کہ:- الايمان يستعمل تارةً اسما للشريعة التى جاء به مُحَمَّدٌ عَلَيهِ الصَّلوة والسلام۔۔۔ویو صف به کل من دخل فی شريعته مُقِرًّا بالله وبنبوته ایمان کا لفظ کبھی عربی زبان میں اقرار باللسان کے معنوں میں بھی آتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسلامی محاورہ میں ، کیونکہ عربی زبان پر قرآن کریم کی زبان کا بڑا اثر ہوا ہے گو وہ پہلے بھی بڑی اچھی اور بہترین زبان تھی لیکن قرآن کریم کی وحی کی عربی نے عربی زبان پر بڑا اثر کیا ہے۔یہاں تک کہ ایک دفعہ جب ہم مصر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔گاڑی میں سفر کرتے ہوئے ایک نوجوان ہم سفر ہر بات میں قرآن کریم کی آیات کا کوئی نہ کوئی ٹکڑا استعمال کرتا تھا چنانچہ میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ یہ نوجوان قرآن کریم سے بڑی محبت رکھتا ہے اس لئے اسے قرآن کریم از بر ہے۔خیر ہم باتیں کرتے رہے۔کوئی گھنٹے دو گھنٹے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ عیسائی ہے۔میں نے اُسے کہا کہ تم عیسائی ہومگر