انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 517
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۱۷ سورة نوح بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة نوح آیت ۸ وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَواثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَاران۔وو قرآن کریم نے اس اصطلاح کی بجائے ایک اور اصطلاح استعمال کی ہے۔قرآن کریم نے عید کی بجائے نُزُرًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ کی آیت کریمہ میں نُزُل“ کی اصطلاح کو استعمال کیا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ جو غفور ہے غلطیوں کو معاف کر دیتا اور خطاؤں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور پھر وہ رحیم ہے وہ انسان کی بار بار کی محنت کو بار بار شرف قبولیت بخشا اور اس کے لئے خوشی کا سامان پیدا کرتا ہے یعنی جو بار بار آنے کا مفہوم عید کے لفظ میں تھا نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (لحم السجدة : ۳۳) میں نُزُل کے لفظ سے اسی تخیل کو گویا ایک نہایت حسین پیرا یہ میں ادا کیا ہے۔دوسرے عید کا لفظ یہ نہیں بتاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہونے والی خوشی ہے۔یہ ایک ایسی خوشی ہے جو بار بار آتی تھی۔ایسی خوشی جو ابو جہل کے گھر میں ہر بچے کی پیدائش پر بار بار آئی اور دوسرے کفار کے ہاں بھی جن کے بہت بچے زیادہ بچے تھے ان کے گھروں میں ہر بچے کی پیدائش پر اُن کے لئے دنیوی خوشی کے سامان پیدا ہوئے وہ گویا ان کے لئے عید کا دن تھا لیکن وہ اُن کے لئے نُزُرًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ کا دن نہیں تھا۔پھر ان دونوں قسم کی عیدوں میں ایک یہ فرق بھی ہے کہ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا اِس کی رُو سے گویا ہماری عید استقامت کا نتیجہ ہے اور اس عید سعید کے مقابلہ میں جو چیز اس کی ضد ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے غضب کے نزول کا دن اس