انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 516 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 516

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث 69 ۵۱۶ سورة المعارج جب تک یہ دوسری چیز یعنی دعا کی طاقت شامل نہ ہو اس کا ذہن صحیح نشو و نما حاصل نہیں کر سکتا۔پس یہاں یہ فرمایا کہ انسان بنیادی طور پر نیکی کی ساری صلاحیتیں رکھتا ہے اور بنیادی طور پر وہ صاحب اختیار بھی ہے لیکن اس کی وجہ سے اس میں بعض کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں اس کو ہم بعض دفعہ تلون کے لفظ سے بیان کرتے ہیں اور میں نے ذرا تفصیل سے بیان کر دیا ہے کہ هَلُوع کے لفظ میں لغوی لحاظ سے دونوں معنی پائے جاتے ہیں کہ صبر کے وقت صبر نہ کرنا اور سخاوت کے وقت بخل سے کام لینا اور ان دونوں کو اگلی آیتوں میں کھول کر بیان کیا گیا ہے۔اذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعا وہ بے صبری سے کام لیتا ہے اور هَلُوعٌ ہے۔وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا وہ حریص بن جاتا ہے اور بخیل بن جاتا ہے اور اس طرح پر وہ هَلُوع ہے۔ان آیتوں میں بھی بنیادی طور پر بڑا وسیع مضمون بیان ہوا ہے اور ساری طاقتوں کو یہ دو لفظ اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہیں لیکن اس وقت اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔اصل بات یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ تمہیں جو فطرتی طاقتیں دی گئی ہیں وہ خدا نے دی ہیں اور ان طاقتوں کے استعمال کے لئے ان طاقتوں کی نشوونما کے لئے، ان طاقتوں سے دنیا جہان کی نعمتیں اس زندگی میں بھی حاصل کرنے کے لئے اس نے ہر دو جہاں کی ہر چیز کو تمہارا خادم بنادیا ہے لیکن چونکہ تم صاحب اختیار بھی ہو چونکہ تمہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر تم اپنی بدقسمتی سے اپنے خدا سے پرے جانا چاہو تو جاسکتے ہو اس لئے ضروری تھا کہ تمہیں دعا کی طاقت بھی دی جاتی۔چنانچہ فرما یا الا المُصَلِّينَ - پس دعا کے بغیر کوئی شخص اپنی فطری طاقتوں کا صحیح استعمال نہیں کر سکتا اور ایک وقت کی دعا نہیں، ایک دن کی دعا نہیں، ایک مہینے یا ایک سال کی دعا نہیں بلکہ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَابِرُونَ۔جو لوگ دائمی طور پر اس نکتے کو سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب نہیں کریں گے اس وقت تک ہم اس قدر عظیم صلاحیتوں کے باوجود جو ہمیں دی گئی ہیں اور اس کے با وجود کہ دنیا کی ہر چیز کو ہمارا خادم بنایا گیا ہے خدا سے خیر اور بھلائی نہیں پاسکتے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۴۷۵ تا ۴۷۹)