انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 515
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۱۵ سورة المعارج ہو جاتے ہیں۔وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا جب کوئی بھلائی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچتی ہے، ان کے اموال میں خدا تعالی برکت ڈالتا ہے، ان کی تجارتیں نفع مند ثابت ہوتی ہیں، ان کی کھیتیاں زیادہ پیداوار دینی شروع کر دیتی ہیں، ان کے باغات کو اچھا اور زیادہ پھل لگتا ہے، اس دنیا میں ہزاروں قسم کی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو عطا کی جاتی ہیں اس وقت انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ خدا کی خاطر اور اس کی رضا کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرتا ہے۔اور فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات :۲۰) کے مطابق یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے اس میں صرف ہم ہی حصہ دار نہیں بلکہ ہمارے سارے بھائی اس میں برابر کے شریک اور حصہ دار ہیں لیکن وہ لوگ اپنی فطرت کی اس صلاحیت کا صحیح استعمال کرنے کی بجائے حرص اور شخ سے کام لے کر اور بخل سے کام لے کر اپنے آپ کو نیکیوں سے محروم کر دیتے ہیں اس کی مثالیں آپ کو ہر جگہ مل جائیں گی لیکن اپنی بھیانک شکل میں۔اس کی مثالیں ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جو مومن نہیں لیکن جو لوگ کمزور ایمان والے ہیں یا جو ابھی زیر تربیت ہیں ان میں بھی آپ کو نظر آتی ہیں۔ذراسی تکلیف پہنچی اور شور مچادیا، جزع فزع شروع کر دی۔کسی کی خاطر تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے یہ پہلو إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا میں بھی آجاتا ہے اور جب خدا تعالیٰ نے انہیں دیا تو ان برکات میں، ان نعمتوں میں، ان اموال میں، جو خدا تعالیٰ نے ان کو دیئے اور سب کچھ دیا اور اسی نے دیا۔اس میں وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی اور شریک نہیں ہے، سارا ہم ہی سمیٹ کر رکھیں، ہمارے پاس جو کچھ آیا ہے اس میں کسی اور کا حصہ نہ ہو۔قرآن کریم نے پہلوں کی بہت سی مثالیں دے کر بھی ہمیں سمجھایا ہے لیکن یہاں پر اصولی طور پر بحث کی گئی ہے، کوئی مثال نہیں دی گئی۔بنیادی چیز جو یہاں ہمیں بتائی گئی ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی کی طاقتیں دیں اور اس کو یہ اختیار بھی دیا کہ ان کو نیکی کی راہوں پر خرچ کرنے کی بجائے بدی کی راہوں پر خرچ کرے لیکن وہ طاقتیں دی اس لئے گئی تھیں کہ وہ نیکی کی راہوں کو اختیار کرے۔انسان کو ان فطری صلاحیتوں کے علاوہ اس مجموعے کے علاوہ بنیادی طور پر ایک اور چیز بھی دی گئی تھی اور وہ چیز تھی دعا کرنے کی طاقت اور سمجھ۔طاقتیں خواہ کتنی ہی اچھی اور کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں مثلاً کسی کا ذہن کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو