انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 509
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۰۹ سورة القلم اور کوئی نہیں یعنی اپنی نوع میں جس کو سب سے زیادہ عظمت حاصل ہو وہ عظیم کہلاتا ہے۔کسی کو محض عظمت کا حاصل ہو جانا اسے عظیم نہیں بنا دیتا بلکہ جس آدمی کو سب سے زیادہ عظمت حاصل ہو وہ عربی زبان کے لحاظ سے عظیم کہلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے (اور درحقیقت دنیا کو بتانے کیلئے ) فرمایا وَ إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِیم کہ اے رسول! تجھے خُلقِ عظیم کا ایسا عظیم الشان معجزہ دیا گیا ہے کہ تجھ سے پہلے کسی نبی کو اس رنگ میں اس عظمت و شان کا معجزہ عطا نہیں ہوا اس کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کے دل تیری طرف مائل ہوں گے۔لوگ تجھ سے تعلق محبت قائم کریں گے وہ تیرے طفیل اپنے زندہ خدا سے زندہ تعلق قائم کریں گے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۷۸۲) پھر ہم لوگ جو حقیقت محمدیہ کو پہچانتے ہیں جانتے ہیں کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام اخلاق فاضلہ کو اپنے وجود اور اسوہ میں جمع کرنے والے تھے جس کی جھلک ہمیں گزشتہ تمام انبیاء میں مختلف طور پر نظر آتی ہے۔پس انبیائے ماسبق اور خدا تعالیٰ کے وہ پیارے جو بعد میں پیدا ہونے والے تھے ان سب کے اندر ہمیں اخلاق فاضلہ کی جو جھلک نظر آتی ہے جو متفرق طور پر آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک بنی نوع انسان میں پھیلی ہوئی ہے وہ تمام اخلاق ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں جمع نظر آتے ہیں۔اسی لئے قرآن کریم نے یہ فرمایا: إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ پھر ہم جو اس علم پر علی وجہ البصیرت قائم کئے گئے ہیں کہ حضرت بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور ختم المرسلین ہیں۔ہم یہ جانتے ہیں اور دنیا میں اس کی منادی کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی مجد داعظم ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ اظہار صداقت کے لئے آپ جیسا کوئی اور مجدد پیدا نہیں ہوا۔سچائی کے اظہار کے لئے گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لانے کے لئے آپ ہی سب سے بڑے مجدد ہیں۔روحانیت کے قیام کے لئے حقیقتا آپ ہی آدم ہیں کیونکہ آدم اول نے آپ ہی سے سچائی کو حاصل کیا اور آپ ہی کے طفیل اس سچائی اور صداقت کو وقت کے تقاضے اور پہلی نسل کی صلاحیت کے مطابق دنیا پر ظاہر کیا لیکن حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو مجد داعظم ہیں آپ کے طفیل تمام انسانی فضائل اپنے کمال کو پہنچے۔پہلے کسی وجود میں یہ چیز ہمیں نظر نہیں آتی۔اس میں شک نہیں کہ انسان نے بعض پہلوؤں سے ترقی کی اور ایک حد تک کمال کو حاصل کیا لیکن یہ کہ ہر انسان اپنے تمام فضائل کو