انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 497
۴۹۷ سورة الملك تفسیر حضرت خلیفہ اسح الثالث جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں، ان میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس کے ایک حصہ کو تو میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں مختصر بیان کر دیا تھا۔خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم کے محاورہ میں انسان میں سات قسم کی زندگیاں پائی جاتی ہیں اور ہر زندگی کے مقابلہ میں ایک موت ہے کیونکہ موت نام ہے زندگی کے فقدان اور اس کے ضائع ہو جانے کا۔تاہم ان آیات میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ صرف یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کو پہلو بہ پہلو پیدا کیا اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اچھے اور برے اعمال کو ظاہر کرے۔ویسے تو ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ظاہر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو بھی پتہ لگے اور دوسروں کو بھی پتہ لگے کہ احسن عمل کرنے والے کون ہیں اور وہ کون ہیں جو احسن عمل نہیں کرتے۔ان آیات میں جو اصل مضمون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ حقیقی برکتیں اور نعمتیں حاصل کرنی ہوں تو انسان کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔غیر اللہ کی طرف رجوع کرنا بالکل لا یعنی اور بے مقصد ہے کیونکہ تمام برکات اور تمام نعمتوں کا حقیقی سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ہم عاجز انسانوں کو سمجھانے کے لئے یہ بتایا گیا ہے کہ تمام برکتیں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوتی ہیں کیونکہ حقیقی بادشاہ وہی ہے فرمایا بِيَدِهِ الْمُلْكُ بادشاہت سارے اقتدار کے ساتھ پوری کی پوری اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ متصرف بالا رادہ ہستی ہے فرما یا هُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ۔وہ جو چاہے سو کرتا ہے۔اُسے کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں۔حقیقی بادشاہت کے لئے عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ہم حقیقی بادشاہت کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔دُنیا کی جو بادشاہتیں ہیں یہ نہ حقیقی بادشاہتیں ہیں اور نہ دُنیا کے بادشاہ اور برسر اقتدار لوگ حقیقی بادشاہ یا حاکم ہیں۔اب ان ڈ نیوی بادشاہوں اور حاکموں کو دیکھو کہ چاہتے کچھ ہیں یا اپنی خواہش کا اظہار کچھ کرتے ہیں اور عمل کچھ کرتے ہیں۔ایک گروہ کو ایک گروہ کے خلاف فیصلہ بھی دے دیتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا کریں بڑی مجبوریاں پیش آ گئی تھیں۔پس یہ توکوئی بادشاہت نہیں، یہ تو کوئی حاکمیت نہیں، اللہ تعالیٰ حقیقی بادشاہ ہے جس کے متعلق یہ وہم بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ یہ کہے کہ چاہتا تو میں کچھ اور تھا مگر مصلحتوں نے مجھے مجبور کر دیا اس لئے اپنی خواہش کے خلاف میں نے کچھ اور کیا ہے مگر اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کیونکہ وہ کہتا ہے هُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ