انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 481 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 481

تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۴۸۱ سورة الطلاق ط والوں کو مُؤْمِنُونَ حَقا، جنہیں قرآن کریم نے کہا ہے کہ میری طرح تم بھی خدائے واحد و یگانہ رب العالمین پر توکل کرو اور ہر چیز اس سے مانگو۔یہ عملی زندگی میں خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔عملی زندگی میں زندہ خدا سے زندہ تعلق ہم کہتے ہیں، پیدا کرو یہ ہے۔ہر چیز اس سے مانگو۔قرآن حکیم بھی ہے یعنی دلیل بھی دیتا ہے۔سورہ تغابن میں فرمایا۔وَاللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (التغابن : ۱۲) کوئی چیز خدا سے چھپی ہوئی نہیں۔ہر چیز کو وہ جانتا ہے۔تفصیل سے بھی بتایا۔تمہارے خیالات کو وہ جانتا ہے یعنی جن خیالات نے الفاظ کا جامہ نہیں پہنا، اللہ تعالیٰ سے وہ چھپے ہوئے نہیں ہیں۔جو تمہارے جذبات ظاہر نہیں ہوئے اور دل کی کیفیت ہے وہ، اس کو بھی وہ جانتا ہے عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (التغابن : ۵) اور چودہویں آیت میں یہ کہا اللهُ لاَ إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَ عَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ خدا ایک ہی ہے جس کی پرستش کرنی چاہیے۔وہ ایک ہی حقیقی معبود اور مقصود اور محبوب ہے ہمارا۔اور جوایمان کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے وہ خدائے واحد و یگانہ پر ، صرف خدائے واحد ویگانہ پر تو گل کریں اور غیروں کی طرف نگاہ نہ اٹھا ئیں۔دوسری حکمت یہاں یہ بیان ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ پر اس لئے تو کل کرو کہ کمزور نہیں ہے وہ۔جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (الانفال:۵۰) وہ غالب ہے، طاقت والا ہے کوئی شخص اس کا ہاتھ پکڑ نہیں سکتا۔اگر تم پر رحم کر نا چا ہے دنیا کی کوئی طاقت تمہیں اس کے رحم سے محروم نہیں کر سکتی۔اگر تم اسے ناراض کر دو تو کوئی طاقت اس کی ناراضگی سے تمہیں بچا نہیں سکتی۔عزیز تو اسی پر تو گل کرنا چاہیے نا، جو بنیادی طور پر ہر قسم کی طاقت کا سرچشمہ ہے اور کوئی غیر اس کے راستے میں روک نہیں اور اس پر توکل کرو کیونکہ وہ حکیم ہے ، حکمت والا ہے۔انسان بعض دفعہ ایک چھوٹے بچے کی طرح جو آگ کا مطالبہ کیا اس نے ماں سے اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی بات مانگتا ہے جو اس کے علم میں ہے کہ اسے نقصان دینے والی ہے یا ایسی بات کی خواہش رکھتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کسی اور کے متعلق خواہش ہے کہ وہ جو اور ہے وہ اس کے حق میں نہیں ہے جیسے کشتی کا تختہ توڑ دینا۔قرآن کریم نے وہ مثال بڑی اچھی ایک دی ہے ہمارے لئے۔تو خواہش بظاہر نیک لیکن جو کامل علم رکھنے والی ہستی ہے اس کے نزدیک وہ درست نہیں۔اس واسطے اس طرح نہیں دے گا کہ بچے نے