انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 480

۴۸۰ سورة الطلاق تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث جس کی ضرورت پڑ سکتی تھی انسان کو بحیثیت نوع یا انسانی افراد کو فرڈ ا فرڈ ایسے طور پر حقیقی معنی میں ضرورت پڑ سکتی تھی وہ اس نے پیدا کر دی۔بعض دفعہ نہیں ملتی۔کوئی ظالم آجاتا ہے بیچ میں۔اس دکھ کو سوائے خدا کے کوئی دور نہیں کر سکتا۔بعض دفعہ انسان کو بلکہ بعض دفعہ غلط شاید میں نے کہا ) اکثریا ہمیشہ ہی انسان کو پتا نہیں کہ میری بھلائی کسی چیز میں ہے۔جو جانتا ہے اس سے مانگو تو لا إِلهَ إِلا هُوَ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔خدا کے سوا کوئی ربوبیت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔حسبي الله یہ رب جو ہے یہ میرے لئے کافی ہے اور اس پر میں تو کل کرتا ہوں۔سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے سینتیسویں آیت میں ہے۔اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟ یہ عام اعلان ہے ایک جس کا تعلق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس معنی میں ہے کہ عملاً اس حقیقت کو ظاہر کرنے والے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔یہ سینتیسویں آیت کا ایک ٹکڑا ہے۔انتالیسویں آیت میں ہے۔تو کہہ دے مجھے اللہ کافی ہے ( یہ جو آیا تھا پہلے )۔قُل حَسْبِيَ اللهُ - أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَه پہلی آیت ( آیت ۳۷ میں تھا ) پھر کہا اعلان کر دو حسبی اللہ میرے لئے اللہ کافی ہے کسی غیر کی مجھے ضرورت نہیں۔عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكَّلُونَ اس لئے جو میری اتباع کرنے والے ہیں انہیں میں یہ کہتا ہوں کہ تم صرف خدا پر توکل کرو۔ہمیں قرآن کریم میں یہ حکم ہوا۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (آل عمران: ۳۲) اور اتباع کس چیز میں کرو؟ (صرف میں اصولی طور پر ایک بات بتا رہا ہوں اس وقت ) فرمایا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ اعلان کروایا ) إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (یونس:۱۲) جو وحی مجھ پر نازل ہورہی ہے میں صرف اس کی اتباع کرتا ہوں اور جس وقت ہمیں کہا گیا کہ آپ کی اتباع کرو تو اس کے یہ معنی ہو گے کہ جس طرح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم صرف اس وحی کی اتباع کر رہے ہیں جو آپ پر نازل ہو رہی ہے۔اس لئے ہر سچے مومن کا فرض ہے کہ صرف اس وحی کی اتباع کرے جو آپ پر نازل ہورہی ہے۔اور اس وحی سے ہمیں ایک بات جس کا اب میں ذکر کر رہا ہوں یہ معلوم ہوئی کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ جو رب العالمین ہے اس کے علاوہ کسی پر توکل کرنے والے نہیں تھے اور کسی کی احتیاج محسوس کرنے والے نہیں تھے بلکہ یہ اعلان کرنے والے تھے اپنے متبعین، اتباع کرنے