انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 479 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 479

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ ۴ ۴۷۹ سورة الطلاق بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الطلاق آیت وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا ایک عقیدہ ہے توحید پر قائم ہونے کے لئے۔دوسرے عملی تو حید ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُه کہ چونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے کرنے پر قادر ہے۔اس واسطے ہر چیز اس سے مانگو ، اس سے حاصل کرو اور کسی احتیاج کے وقت کسی غیر کا خیال بھی نہ لا ؤ دل میں۔یہ عملاً توحید کے ساتھ ایک فرد واحد کا اور قوموں کا تعلق پیدا ہوتا ہے۔کوئی چیز کسی غیر سے مانگنی نہیں، نہ حاصل کرنی ہے۔اللہ تعالی سامان پیدا کرتا ہے اور قرآن کریم نے مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حسبہ کی حکمت مختلف پیرایوں میں بیان کی ہے۔سب پر تو اس وقت بات نہیں کی جاسکتی۔پہلی بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ جو تو کل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً کیا اپنے ربّ پر ، ہمیں حکم ہے کہ آپ کی اتباع کریں۔قرآن کریم میں آیا ہے سورہ تو بہ میں۔(حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یعنی وحی کے ذریعے خدا تعالیٰ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا اس کا اعلان کر دو ) حسبى الله میرے لئے اللہ کافی ہے۔لا الهَ إلا هو وہ یکتا واحد ہے اور کسی اور کے پاس مجھے جانے کی ضرورت نہیں۔اس لئے عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ اور میں نے اس پر توکل کیا اور اس وجہ سے کیا کہ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (التوبة : ۱۲۹ ) اس نے ذمہ لیا ہے اس عالمین، اس یو نیورس (Universe)، اس کائنات کی ہر چیز کی ربوبیت کا۔ہر چیز