انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 471
تفسیر حضرت الليلية مسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيُطنِ الرَّحِيمِ ۴۷۱ سورة المنافقون بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسیر سورۃ المنافقون آیت ۹ يَقُولُونَ لَبِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَةُ مِنْهَا الاَذَلَ وَ لِلّهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا 199191 يعلمون ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ فرمایا کہ میری بعثت کی اصل غرض یہ ہے کہ توحید باری تعالیٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو دنیا میں قائم کروں تو آپ نے دوسرے الفاظ میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے ایک ایسی جماعت دی جائے گی جو تو حید حقیقی پر قائم ہوگی اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو جانے اور پہچانے والی ہوگی اور اس عزت کے لئے ساری ذلتیں قبول کرنے کیلئے تیار ہوگی۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ - کہ حقیقی عزت کا سچا ما لک اللہ تعالیٰ ہے۔ساری عزتوں کا سر چشمہ اسی کی ذات ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ عزت حاصل کی کہ کسی ماں جائے نے نہ ایسی عزت حاصل کی اور نہ کبھی حاصل کر سکتا ہے۔پس سب سے معزز خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس عالمین میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور آپ کی ذات سب سے معزز اس لئے ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس مخلوق میں انسانوں کے لئے اور ان کی روحانی ارتقاء