انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 468
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۶۸ سورة الجمعة ہے اعتدال دنیا کی مخلوقات میں۔یہ بڑی حکمتوں والی کتاب ہے حکمتیں اس لئے بتا رہا ہوں احکام میں اعتدال رکھا مثلاً معاف کرد حکم ہے معاف کرو ساتھ ہی قرآن نے کہا ہر وقت معاف نہیں کرنا۔انتقام اور عفو کے درمیان ایک اعتدال قائم کیا ہے کہ اگر عفو سے فائدہ ہو عفو سے کام لو۔اگر انتقام سے اگلے آدمی کی اصلاح ہوتی ہے انتقام سے کام لو۔حکمت یہ جو میں نے مثال دی تھی وہ اخلاق فاضلہ میں اور قوتوں اور صلاحیتوں میں توازن پیدا کر کے اور عجیب اصول دنیا کے سامنے رکھ دیا کہ جو بداخلاقی ہے وہ کوئی ایسا کام نہیں جو اپنی ذات فی نفسم بداخلاقی کا کام ، ہو بلکہ بے موقع اور بے محل اس کا کرنا جو انسان کو خدا نے قوت دی ہے وہ بغیر وجہ کے تو نہیں لیکن بے موقع بے محل بے وقت کسی کا کوئی کام کرنا یہ بد اخلاقی ہے۔جب طبعی قوتوں کو موقع محل اور ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے وہ اخلاق فاضلہ بن جاتے ہیں۔پھر پاکیزگی ہے، پاکیزگی کے متعلق دو باتیں اصولی بیان کیں ایک انسان کو یہ کہا فلا تز کوا اَنْفُسَكُمُ (النجم : ۳۳) اپنے آپ کو پاک نہ کہا کرو گنہگار ہو جاؤ گے غرور پیدا ہو جائے گا شیطان کی گود میں چلے جاؤ گے ہمیشہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کبھی جوش میں آئے نہ کہو میں بڑا پاک، میں بڑا ولی میں بڑا یہ میں بڑا وہ ہر شخص خدا کے حضور ایک عاجز وجود ہے اور جس چیز کو اسلام پاکیزگی کہتا ہے وہ یہ لپ سٹک اور سرخی کلوں پر لگانے کا نام نہیں ہے ظاہری آنکھ نے جسے دیکھنا ہے اس کا دل سے تعلق ہے قرآن نے کہا لا تز کوا انفسکم دیکھ کبھی اپنے آپ کو پاک نہ کہنا هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : ۳۳) اس بات کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے کہ کون متقی ہے اور کون نہیں ہے۔جب یہ کہا کہ خدا کو ہی علم ہے کہ کون پاک اور کون نہیں اور کون مطہر اور کون نہیں کون متقی اور کون نہیں تو پھر انسان کو تو تبھی پتا لگے گا، جب خدا بتائے گا کسی استاد سے اس کی سند نہیں لے سکتے قرآن کہتا ہے نہیں نہیں هُوَ اعلَمُ بِمَنِ اتَّقی اللہ کو پتا ہے یہ بھی استاد کو نہیں پتا کسی مجسٹریٹ سے لے کے جاکے کوئی پرانا کاغذ جو ہے اس کی تصدیق اور ثبوت مہیا نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے سامنے، گواہوں کے ساتھ ، کیونکہ گواہ بھی نہیں دے سکتے کہ کیا بت ہے اسلام نے یہ اعلان کیا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں پاک اور متقی ہو گا خدا تعالیٰ خود اس کے متقی اور پاک ہونے پر گواہی دے گا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بتایا ہے کہ جو میری نگاہ میں پاک اور مطہر ہوں میں ان کے ساتھ