انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 447
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۴۷ سورة الصف خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی اپنی راہ میں مجاہدہ قرار دیا ہے۔اور اس کی جو برکات ایک مجاہد پر نازل ہوتی ہیں یہ لوگ بھی اس کے وارث ہیں۔جیسا کہ فرمایا يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِیلِ الله (النساء : ۹۵) اگر چہ اس آیت میں اپنی کانٹیکسٹ (Context) کے لحاظ سے یعنی اس مضمون کے لحاظ سے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔یہ سفر جنگ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔لیکن جنگ کرنے کا ثواب علیحدہ ہے۔اور اِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللہ کا ثواب علیحدہ یہاں بتایا گیا ہے۔اسی طرح اِنْفِرُوا فِي سَبِيلِ الله (التوبة : ۳۸) ہے۔تو بہت دفعہ خدا کی راہ میں سفر کرنا پڑتا ہے۔مثلاً وقف عارضی میں وقف کرنے والوں کو میں نے یہی کہا تھا کہ تم بتاؤ کہ تم کتنا سفر کر سکتے ہو؟ اس کے جواب میں بعض دوستوں نے لکھا کہ ہم اپنے خرچ پر پندرہ میں میل سفر کر سکتے ہیں بعض نے لکھا کہ ہم پچاس ساٹھ میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ ہم سوڈیڑھ سو میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ سارے پاکستان میں جہاں آپ کی مرضی ہو بھجوا دیں۔ہم سفر کرنے کے لئے تیار ہیں تو ایسے مومن بھی مجاہدین میں شامل ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی راہ میں سفر کرنے کو بھی اللہ تعالیٰ نے مجاہدہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔ساتویں اور مجاہدہ کی سب سے اہم قسم جَاهِدُهُم بِه جِهَادًا كبيرًا (الفرقان: ۵۳) میں بیان کی گئی ہے۔یعنی قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے دین کی راہوں میں جہاد کرنا اور اصولی طور پر یہ جہاد دوشکلوں میں کیا جاتا ہے۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتنے زبر دست اور اتنی کثرت سے دلائل جمع کر دیئے ہیں کہ دنیا کا کوئی باطل عقیدہ خواہ کسی مذہب سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔تو عقائد باطلہ کا (خواہ وہ عقائد باطلہ عیسائیوں کے ہوں یا آریوں کے یاسکھوں کے یاد ہریوں کے یا دوسرے بد مذاہب کے ہوں ) دلائل حقہ کے ساتھ مقابلہ کرنا بھی ایک زبر دست جہاد ہے جس کے نتیجہ میں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو انسان اس کی رحمتوں کا وارث بنتا ہے۔اور دوسرے جَاهِدُهُم بِه جِهَادًا كبيرًا ( الفرقان: ۵۳) تعلیم قرآن کو عام کرنے سے یہ جہاد کیا جاتا ہے کیونکہ مومنوں کی جماعت میں علوم قرآنیہ کو ترویج دینا۔ان کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت