انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 446 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 446

۴۴۶ سورة الصف تفسیر حضرت خلیفہ مسیح الثالث اور پھر اس وقت اپنی زندہ طاقتوں اور زندہ قدرتوں کا ایک نمونہ دنیا کو دکھاتا ہے کہ دیکھو مومن تھوڑے بھی تھے، کمزور بھی تھے، غریب بھی تھے پھر ان کے پاس ہتھیار بھی نہیں تھے باوجود اس کے جب وہ ہمارے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ہمارے اور اپنے دشمن کے مقابلہ پر آ گئے۔تو انہیں فتح نصیب ہوئی۔اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کا معجزانہ رنگ میں اظہار فرماتا ہے۔اس کے علاوہ مجاہدہ کی ایک شکل ہمیں قرآن مجید سے یہ بھی معلوم ہوتی ہے۔وَلَبِن قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ اَوْ مُثْم لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللهِ وَرَحْمَةٌ (ال عمران : ۱۵۸) یہاں صرف قتل کئے جانے کا ذکر ہے۔ضروری نہیں کہ جنگ میں قتل ہو۔اگر آپ تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا۔کہ مسلمان صرف میدان جنگ میں ہی شہید نہیں کئے گئے۔بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر ہزاروں لاکھوں مسلمان ایسا ہے جسے میدان جنگ میں نہیں بلکہ امن کی حالت میں کافروں نے بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا۔جیسا کہ ہماری تاریخ میں صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کو کابل میں پکڑا گیا۔ย وہ بے گناہ، بے بس اور کمزور تھے۔حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔حکومت نے خدا تعالیٰ کے فرمان کے خلاف، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیتے ہوئے ان کو پکڑا اور قتل کر دیا۔اور بڑی بے دردی سے قتل کیا۔تو ایک شکل مجاہدہ یا جہاد فی سبیل اللہ کی یہ ہے کہ انسان ایسے وقت میں اپنی جان قربان کر دیتا ہے اور کمزوری نہیں دکھاتا۔صداقت سے منہ نہیں موڑتا۔دشمن کہتے ہیں کہ تم تو بہ کر لو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے وہ کہتا ہے کہ کس چیز سے تو بہ؟؟ تو بہ کر کے حق کو چھوڑ دوں!! صداقت سے منہ پھیروں !!! اور باطل کی طرف آ جاؤں !!! ایسا مجھ سے نہیں ہوسکتا !! مرنا آج بھی ہے اور کل بھی۔تمہارا جی چاہتا ہے تو مار دو۔لیکن میں صداقت کو نہیں چھوڑ سکتا۔پانچویں شکل مجاہدہ کی جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے وہ ہجرت فی سبیل اللہ ہے۔اس کی تفصیل کو میں اس وقت چھوڑتا ہوں۔چھٹی شکل اللہ تعالیٰ نے جو مجاہدہ فی سبیل کی بتائی ہے وہ ہے خدا کے دین کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے انسان سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرے۔سفر میں بہر حال ویسا آرام نہیں مل سکتا جیسا کہ اپنے گھر میں ملتا ہے۔بعض لوگ سفر سے گھبراتے ہیں۔بعض لوگ بار بارسفر کر نے سے گھبراتے ہیں۔تو ہمارے مربی، معلم اور انسپکٹر صاحبان کو جو سال کے چھ سات ماہ سفر میں رہتے ہیں