انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 445 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 445

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۴۵ سورة الصف انفاق کی بعض قسموں کی حد بندیاں ہیں۔مثلا زکوۃ ایک خاص شرح کے مطابق دی جاتی ہے لیکن عام صدقات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کوئی شرح مقر ر نہیں فرمائی۔اسی طرح اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے دین کی تقویت کے لئے حسب ضرورت جو اموال مانگے جائیں ان کے لئے کوئی شرح مقرر نہیں ہر آدمی پر فرض ہے کہ وہ اپنی ہمت کے مطابق اور حالات کی نزاکت کے مطابق خدا کی راہ میں اپنے مال کا جتنا حصہ وہ مناسب سمجھتا ہے خرچ کرے۔جیسا کہ ایک وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ ارشاد فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے دین کو تمہارے مالوں کی ضرورت ہے۔تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اندازہ لگایا کہ یہ موقع اتنا نازک ہے کہ میرا فرض ہے۔کہ میں اپنا سارا مال لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ڈال دوں مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اندازہ لگایا کہ اتنا نازک وقت تو نہیں۔لیکن بہر حال اتنا نازک ضرور ہے کہ مجھے نصف مال خدا کی راہ میں دے دینا چاہیے۔تو ہر شخص اپنی اپنی استطاعت اور قوت اور استعداد کے مطابق اور اپنے اپنے مقام ایمان کے مطابق اندازہ لگا کر ایسے موقعوں پر خدا کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کرتا ہے۔لیکن کوئی خاص حد بندی مقرر نہیں۔جیسا کہ تحریک جدید کے چندوں کے متعلق حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے کوئی حد بندی مقرر نہیں کی۔لیکن اس خواہش کا ضرور اظہار کیا ہے کہ ایک مہینہ کی آمد کا ۱/۵ سالا نہ تم دیا کرو تا کہ سلسلہ کی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔بعض لوگ اب بھی اس سے زیادہ دیتے ہیں۔اور بعض ایسے ہیں جو ۱٫۵ بھی نہیں دیتے ۱۰ ر ا دیتے ہیں ۱۵ / ۱ دیتے ہیں ۲۰ / ۱ دیتے ہیں۔مجاہدہ کی ایک شکل جو قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ قتال فی سبیل اللہ ہے۔یعنی جب دشمن زور بازو سے اسلام کو مٹانا چاہے اور مادی ہتھیار لے کر اسلام اور مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو باوجود اس کے کہ وہ اپنے دشمن کے مقابلہ میں بہت کمزور ہوتے ہیں، دفاع کی اجازت دیتا ہے۔اور پھر حکم دیتا ہے کہ ضرور دفاع کرو۔اور یہ حکم اس لئے دیتا ہے تا کہ کمزوروں کی کمزوری ظاہر ہو جائے۔اگر صرف اجازت ہو تو بعض کہیں گے کہ سب کو لڑائی میں جانا تو ضروری نہیں ہے۔