انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 35
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۳۵ سورة السجدة ان کی کامل نشو ونما کے لئے صرف وہ سامان پیدا نہیں کئے جو غیر انسان کی طاقتوں کے لئے پیدا کئے گئے تھے بلکہ ایک نیا سامان بھی پیدا کیا ہے اور وہ نفخ روح ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ سب طاقتیں دینے کے بعد اس سے فرمایا کہ میں یہ طاقتیں تجھے دیتا ہوں اگر تو ان کی صحیح نشو ونما کر سکے اور اس نشو و نما کو کمال تک پہنچا سکے تو آخری نتیجہ یہ نکلے گا کہ تو میرا ایک پیارا بندہ بن جائے گالیکن تو اپنی قوتوں اور طاقتوں کی صحیح نشو و نما نہیں کر سکتا جب تک تجھے میرے الہام اور وحی کی روشنی حاصل نہ ہو اس لئے میں نے تیرے لئے یہ سامان بھی پیدا کر دیا ہے تا کہ یہ نعمت میسر آجانے کے بعد تیرے لئے ی ممکن ہو جائے کہ تو اپنی طاقتوں کو اس رنگ میں کمال تک پہنچائے کہ تیرا رب تجھ سے راضی ہو جائے یہ شرف انسان کو نفخ روح یعنی الہی کلام کے نازل ہونے کے نتیجہ میں عطا ہوتا ہے۔ہر زمانہ کے لحاظ سے انسان بحیثیت نوع جس قدر اپنی قوتوں کو کمال تک پہنچا سکتا تھا اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے جس الہام کی ضرورت تھی ، جس ہدایت کی ضرورت تھی وہ اس کو انبیاءعلیہم السلام کے ذریعہ عطا کی جاتی رہی اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کے ذریعہ سے وہ کامل ہدایت اور اکمل شریعت اور اعلی تعلیم نازل ہوئی کہ اگر انسان اس پر عمل کرے تو انسانیت کے کمال کو پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا محبوب ترین بندہ بن سکتا ہے۔یہ بلند مرتبہ پہلی امتوں کے لئے ممکن ہی نہیں تھا پہلی اُمتوں اور اُمت محمدیہ کے درمیان ( بلحاظ مرتبہ و مقام کے ) فرق کو میں نے دوسری آیات سے لیا ہے ویسے آیت زیر بحث میں عام معنی مراد ہیں یعنی ہر زمانہ کے انسان کو بحیثیت انسان یہ چاروں قسم کی قوتیں اور قابلیتیں عطا ہوتی رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے انسان دیکھ ! میں نے تجھے جسمانی، ذہنی ، اخلاقی اور روحانی قوتوں سے سرفراز کیا ہے اور پھر ان کی صحیح نشوونما کے لئے خود تیری رہنمائی کی ہے خود تیری انگلی پکڑی اور تجھے سیدھے راستے پر چلایا ہے۔ہم نے تجھے ایسے کان دیئے ہیں جو دوسری مخلوق کو عطا نہیں ہوئے۔ہم نے تجھے ایسی آنکھیں دی ہیں جو دوسری مخلوق کو عطا نہیں ہوئیں۔ویسے شاید ہمارے بچے حیران ہوں کہ آنکھ کی عطا کا صرف انسان پر حصر کیوں کیا جا رہا ہے حالانکہ ہرن کو بھی آنکھ دی گئی ہے، عقاب کو بھی آنکھ دی گئی ہے ، مرغابی کو بھی آنکھ دی گئی ہے اور مرغی کو بھی آنکھ دی گئی ہے۔تمام پرندوں چرندوں کو آنکھیں دی گئی ہیں حتی کہ رینگنے والے بعض کیڑوں تک کو آنکھیں دی گئی ہیں۔لیکن یہاں عام طور پر مخلوقات کو جو آنکھیں دی گئی ہیں ان کا یہاں ذکر نہیں ہے یہاں اس آنکھ کا ذکر