انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 439
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۳۹ سورة الصف میں پوری ہو ہی نہیں سکتی تھی۔اس کا تعلق تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ یعنی مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ ہے۔اس کا تعلق تو بنی نوع انسان کے دل میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک عالمگیر محبت پیدا ہو جانے سے ہے اور اس کا تعلق تو خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک عالمگیر عشق سے ہے کیونکہ اس کے بغیر اسلام کا عالمگیر غلبہ ممکن ہی نہیں۔لیکن ہمارے اس زمانے سے پہلے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک عالمگیر محبت اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے ایک عالمگیر عشق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق اسلامی تعلیم جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کی ہے۔وہ ساری دنیا میں پہنچتی ہی نہیں تھی۔غرض دنیا کے ان باشندوں کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کیسے پیدا ہو سکتی تھی۔جہاں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں پہنچا اور ان لوگوں کے دلوں میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان کیسے پیدا ہوسکتی تھی۔جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی نہیں سنا تھا۔پس بغیر دیکھے یا بغیر سنے کسی کے دل میں محبت کا پیدا ہونا ناممکن بات ہے۔اس لئے اسلام کے اس عالمگیر غلبہ کا تعلق حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت سے ہے اور اس لحاظ سے ایک بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہے۔جماعت احمدیہ کی بنیاد اس لئے رکھی گئی ہے اور یہ سلسلہ عالیہ اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ دین حق کو مضبوط کیا جائے اور کلمہ اسلام کو دنیا میں پھیلایا جائے قرآن کریم میں لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِه کی جو پیشگوئی کی گئی تھی اس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم بشارت دی گئی تھی کہ دین اسلام تمام دنیا پر غالب آجائے گا۔مگر یہ کام تلوار کے ساتھ نہیں ہوگا اور نہ ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ بلکہ یہ کام محبت اور پیار اور خدمت کے جذبہ کے ساتھ کیا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے حسن و احسان کو دنیا کے سامنے پیش کر کے بنی نوع انسان کے دل جیت کر یہ مشن پورا کیا جائے گا۔(خطبات ناصر جلد دہم صفحه ۱۵۰،۱۴۹) پس یہ وہ پیشگوئی اور بشارت ہے جس کے متعلق پہلے بزرگوں نے بھی کہا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے ماتحت کہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اس زمانہ میں جماعت احمد یہ اپنی کمزوریوں کے باوجود اور کم مایہ ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی مورد بنے گی اور وہ قادر و توانا اسے اپنا ہتھیار بنائے گا تا دنیا میں اسلام کو غالب کرے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا ایک