انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 438
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۳۸ سورة الصف ہوا تو وہاں پر اندھیرا ہو جائے گا۔یہ قانون قدرت ہے۔ہر فعل جو انسان سے صادر ہوتا ہے وہ اس کی مرضی سے ہوتا ہے۔اب وہ صاحب اختیار ہے کہ چاہے تو اپنے کمرے کا دروازہ بند کرے اور چاہے تو اپنے کمرے کا دروازہ بند نہ کرے اس کو یہ اختیار حاصل ہے لیکن جب وہ دروازہ بند کرتا ہے تو اس کے اس فعل پر کہ اس نے سب دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیں اور وہاں کوئی شیشہ بھی نہیں لگا ہوا اللہ تعالیٰ ایک اثر پیدا کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں پر اندھیرا کر دیتا ہے۔یہ انسان کا فعل ہے کہ اس نے دروازے کھڑکیاں بند کر دیں اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ اثر پیدا کیا کہ وہاں پر اندھیرا کر دیا۔اسی طرح اندھیرے کمرے میں کھڑکیاں دروازے کھولنے کا عمل انسان کا ہے اور اس کے بعد جو روشنی ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کے مطابق ہوتی ہے۔پس انسان اپنے دائرہ میں صاحب اختیار ہے اور انسان کا یہ اختیار اور انسان کی یہ آزادی قضا و قدر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا اور یہ اندازہ قائم کیا اور مقر رکیا ہے کہ اس حد تک نوع انسانی اپنے دائرہ میں آزا در ہے گی اور نوع انسانی کا ہر فرد اپنے اپنے دائرہ استعداد میں آزادر ہے گا۔ہر انسان کا دائرہ استعداد مختلف ہے مثلاً ہر انسان علم کے حصول میں ایک جیسی ترقی نہیں کر سکتا۔لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا ما سعی کا اصول تو یہ ہے کہ اجر کے حصول کے لئے تمہارا عمل ضروری ہے اگر تم عمل نہیں کرو گے تو تمہیں اجر نہیں ملے گا۔اس میں جبر کہاں سے ہوا؟ بالکل پوری طرح آزادی کا اعلان کر دیا ہے لیکن ہر شخص دوسرے شخص جیسا اور اتنی عقل والا عمل نہیں کرسکتا۔ہر ایک کا اپنا ایک دائرہ استعداد ہے جو بڑے بڑے موجد ہیں ان کی استعداد اور ہے مثلاً جس نے ایٹم کی طاقت کا علم حاصل کیا ( گو اب اسے غلط طرف لے گئے ہیں ) اس شخص کو خدا تعالیٰ نے اتنی ذہنی طاقت دی تھی کہ وہ اس میدان میں یہ چیز ایجاد کر لیتا یہ ہر شخص کا کام نہیں تھا لیکن یہ طاقت اور قوت اس کو خدا تعالیٰ نے دی تھی۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۳۵۲، ۳۵۳) آیت ۱۰ هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَةَ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ پس لِيُظهِرةُ عَلَى الدِّینِ کلیم کی رو سے اس عالمگیر غلبہ کی بشارت اسلام کی نشاۃ اولی کے زمانہ