انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 437
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ ۴۳۷ سورة الصف بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الصف آیت وَ اِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَومِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَد تَعْلَمُونَ انّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ فَلَمَّا زَاغُوا اَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ دیکھو! قرآن کریم نے ایک جگہ فرما یا لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَ أَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى (النجم : ۴۱،۴۰) که اجر حاصل کرنے کے لئے عمل کرنے کی ضرورت ہے انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے اور ایک جگہ فرمایا ہے فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللهُ قُلُوبَهُمْ بعض لوگ اس پر اعتراض کر دیتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے گمراہی کا انتظام پیدا نہیں کیا۔خدا تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ جب انہوں نے حق سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں جو حق کی مناسبت رکھی تھی اس مناسبت کو زائل کر دیا اور وہ ان کے اندر نہیں رہی اور یہ قانون قدرت ہے کہ جو آدمی بدی کرتا ہے اور بدی پر اصرار کرتا ہے وہ بدی کی نفرت کو کھو دیتا ہے اور اس کے اندر اس کو خوشی اور لذت محسوس ہوتی ہے اور یہ اس کا اپنا قصور ہے۔اس کی ظاہری اور موٹی مثال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قانون قدرت میں سورج کو روشنی دینے کے لئے بنایا ہے لیکن انسان کے لئے اس نے یہ قانون بنایا ہے کہ اگر وہ کھڑکیوں اور دروازوں والے کمرے بنائے تو اگر وہ دن کے وقت کھڑکیاں دروازے کھلے رکھے یا ان پر شیشے لگے ہوئے ہوں تو کمرے کے اندر روشنی آئے گی۔ہم ایسے دروازے لیتے ہیں جن میں شیشے وغیرہ نہیں لگے ہوئے تو اگر دروازے کھلے ہوں گے تو کمرے میں روشنی آئے گی۔یہ قانون قدرت ہے اور اگر کوئی شخص اپنے کمرے کے دروازے بند کر دے اور شیشہ وہاں کوئی نہیں لگا