انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 34
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۴ سورة السجدة کوئلہ اور ہیرے اور جواہرات بھی بنتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ میں نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے اس میں بڑی طاقتیں رکھی ہیں میری تدبیر ہی کے نتیجہ میں میری مخلوق کی قابلیتیں اُجاگر ہوتی ہیں اور ان کی طاقتوں کی صحیح نشوونما ہوتی ہے۔میری تدبیر کے نتیجہ میں میرے ہی منشاء کے مطابق ہر چیزا اپنی شکل اختیار کرتی ہے۔ایک یہ ہیرا ہے کتنے نامعلوم سالوں اور زمانوں میں سے گزر کر وہ ہیرا بنا اسی طرح صدیاں گزرنے کے بعد کہیں جا کر پتھر کا کوئلہ بنتا ہے لیکن جو چیز پتھر کا کوئلہ بنتی ہے وہ کوئلہ نہیں بن سکتی تھی جب تک اللہ تعالیٰ اس کے اندر یہ طاقت نہ رکھتا اور اس طاقت کے نشوونما کے سامان نہ پیدا کرتا۔پس يدبر الامر کے بعد ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہر چیز کا مربی اور مد براللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو بھی منصوبہ اس وقت دنیا کی ہر مخلوق پر حاوی اور حاکم ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر کار فرما ہے جس کے نتیجہ میں ہر چیز کی اعلیٰ طاقتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں لیکن انسان دوسری مخلوق سے مختلف ہے چنانچہ انسان کے متعلق اسی سورۃ کی دسویں آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ثُمَّ سَوَبِهُ وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوحِهِ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْدَةَ قَلِيلًا مَّا تشْكُرُونَ ہم نے انسان کو مکمل طاقتیں دی ہیں اور جیسا کہ ہمیں دوسری جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جو طاقتیں عطا ہوئی ہیں ان طاقتوں کا تعلق صرف انسانی جسم سے نہیں بلکہ اس کے ذہن سے بھی ہے اس کے اخلاق سے بھی ہے اس کی روحانیت سے بھی ہے دوسری مخلوق کو صرف جسمانی طاقت ملی ہے جبکہ انسان کو یہ چاروں قسم کی طاقتیں ملی ہیں۔اگر چہ یہ صحیح ہے کہ ایک حد تک انسانی ذہن سے کچھ خفیف سا ملتا جلتا ذہن جانوروں کو بھی ملا ہے لیکن وہ انسانی ذہن سے اتنا مختلف ہے اور اس میں اتنا فرق ہے کہ ہم اس کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔مثلاً انسان کے علاوہ کوئی جانور چاند پر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن انسان نے سوچا اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کو سمجھا اور اس سے فائدہ حاصل کیا اور چاند پر پہنچ کر واپس بھی آگیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہ صرف جسمانی طاقتیں دی ہیں بلکہ ذہنی ، اخلاقی اور روحانی طاقتوں سے بھی نوازا ہے اور اس طرح انسان کو دوسری مخلوق کے مقابلہ میں ایک ارفع مقام عطا کیا ہے اس لئے فرمایا کہ میں نے ان طاقتوں کے عطا کرنے کے بعد