انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 33
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۳۳ سورة السجدة بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة السجدة آیت ۶، ۱۰،۸ يُدير الأمرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةٌ اَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ۔۔۔۔الَّذِي أَحْسَنَ كُلّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَا خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ۔۔۔۔ثُمَّ سَوَبِهُ وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوحِهِ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّبْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَنْدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ سورہ سجدہ میں مذکورہ آیت نمبر 4 سے پہلے اور بعد کی بھی بہت سی آیات میں دراصل یہی مضمون بیان ہوا ہے چونکہ خطبہ میں زیادہ لمبا مضمون بیان نہیں ہو سکتا اس لئے میں نے اس میں سے بعض ٹکڑے منتخب کر لئے ہیں۔شاید ان میں سے بھی مجھے کچھ چھوڑ نے پڑیں گے غرض سورہ سجدہ کی اس چھٹی آیت میں بتایا کہ مد بر حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وہی آسمانوں اور زمین کی تدبیر میں لگا ہوا ہے۔اس کے بعد آٹھویں آیت میں فرمایا : الَّذِی اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ کہ اللہ تعالیٰ نے جو مد بر حقیقی یعنی آسمانوں اور زمین کی تدبیر میں لگا ہوا ہے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے اعلیٰ طاقتوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ہمیں ہر چیز میں ایک تدریجی ارتقا نظر آتا ہے۔درخت میں بھی ، اور جانور میں بھی، تدریج کا اصول جاری ہے حتی کہ اگر ہم اپنی نظر کو زمانہ کی وسعتوں میں پھیلا کر دیکھیں تو ہمیں صاف پتہ لگتا ہے کہ جمادات میں بھی تدریجی ترقی کا اصول کارفرما ہے مثلاً زمین سے ارتقائی مدارج طے کرنے کے بعد