انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 428 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 428

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۲۸ سورة المجادلة قرین بنایا جاتا ہے پھر شیطان اپنی کوشش اور اپنے عمل سے ایسے حالات پیدا کرتا ہے کہ وہ ان کو خدا تعالیٰ کی طرف جانے والی راہوں سے روک دیتا ہے اور ان کو اس دھوکے میں ڈالتا ہے کہ وہ بڑے ہدایت یافتہ ہیں۔پھر شیطان ان پر غالب آجاتا ہے۔اِسْتَحُوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَنُ اور پھر وہ کلی طور پر ذکر اللہ سے غافل ہو جاتے ہیں اور حزب الشیطن یعنی شیطان کا گروہ بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یا درکھو اور اچھی طرح سن لو کہ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَنِ هُمُ الْخَسِرُونَ شَیطان کا گر وہ ہی گھاٹا پانے والا ہے۔اس سے ہمیں پتہ لگا کہ رمضان میں شیطان جو باندھا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے مضبوط دھاگوں سے باندھا جاتا ہے اور اگر خدا تعالیٰ کا ذکر رمضان کے بعد کے ایام میں بھی جاری رہے اور باقی گیارہ مہینے جو رمضان کے بعد اگلے رمضان تک ہیں ان میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر میں اسی طرح مشغول رہے جس طرح کہ وہ رمضان میں مشغول رہتا تھا تو گیارہ کے گیارہ مہینے اس کا شیطان بندھا ہوا ہوگا۔اس کو حدیث کے محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ شیطان مسلمان ہو گیا پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم شیطان سے مخلصی پانا چاہتے ہو خلاصی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے کہ وہ رشتے اپنے لئے مہیا کرو جن میں شیطان کو جکڑا جاسکتا ہے اور شیطان خدا تعالیٰ کے ذکر سے جکڑا جاتا ہے اور جب یہ تدبیر نہیں کی جاتی ، جب ذکر اللہ کے ذریعہ سے شیطان کو باندھنے کی کوشش نہیں کی جاتی تو اس وقت شیطان حملہ کرتا ہے اور پھر شیطان اپنا اثر ڈالنا شروع کرتا ہے پھر یہ اثر بڑھتا چلا جاتا ہے پھر انسان ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے پھر وہ حِزْبُ الشَّيْطن میں سے بن جاتا ہے اور پھر وہ حقیقی اور ہمیشہ کا گھاٹا پانے والا بن جاتا ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۱۷۳ تا ۱۷۵)