انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 429
تفسیر حضرت خلیفہ السیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيُطنِ الرَّحِيمِ ۴۲۹ سورة الحشر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الحشر آیت ۱۵ لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرَى مُحَصَّنَةٍ أَوْ مِنْ وَرَاءِ ط b جُدُرٍ - بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمُ لَا يَعْقِلُونَ۔مربی کا ایک بڑا کام جماعتی اتحاد اور جماعتی بشاشت کو قائم رکھنا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جونور میں عقل میں پیدا کرتا ہوں اس کے نتیجہ میں قومی یکجہتی قائم رکھی جاسکتی ہے جیسا کہ سورہ حشر میں فرمایا۔تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُوْنَ یہاں ویسے تو مضمون اور ہے لیکن ایک بنیادی حقیقت بھی بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم انہیں ایک قوم خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں اور یہ اس لئے ہے کہ قومی اتحاد اور قوم میں ایک مقصد کے حصول کے لئے بشاشت کا پیدا ہونا اس عقل کے ذریعہ سے ممکن ہے جسے خدا تعالیٰ کے قرآن اور اس احسن الحدیث کی روشنی عطا ہو جو اس نے ہمارے لئے نازل کی ہے۔اگر عقل کو انوار قرآنی حاصل نہیں تو پھر عقل اس بنیادی مسئلہ کو بھی سمجھنے سے قاصر رہ جاتی ہے کہ کجہتی اور اخوت اور اتحاد کے بغیر قومی ترقی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔پس ایک مربی کا یہ کام ہے کہ وہ کوشش کر کے قرآنی نور سے اپنی عقل کو منور کرے اور قرآن کریم نے جو اصول اور جو ہدایتیں اور جو تعلیم قوم میں بشاشت پیدا کرنے ، محبت پیدا کرنے اور اخوت پیدا کرنے کے لئے دی ہیں انہیں سیکھے اور پھر ان کا استعمال کرے کیونکہ اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ