انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 420
تفسیر حضرت علی اسی اثاث ۴۲۰ سورة الحديد جس کو پسند کرتا ہے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا فضل والا ہے۔جنت کا تصور قرآن کریم نے یہ بیان کیا کہ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ یہ تو چھوٹی سی ایک زمین ہے نا ہماری، اس کے کناروں تک بھی کم ہی آدمی پہنچتے ہیں لیکن جنت کی وسعت تو زمین و آسمان کی وسعت یعنی جس تک ابھی انسان کا تصور بھی نہیں پہنچا، وہ وسعت ہے۔اب میں اس جگہ پہنچا ہوں جو اصل تمہید کے بعد میرا مقصد تھا بیان کرنا۔اب اس جنت کی وسعت کو دیکھیں۔ایک شخص فوت ہو گیا اس کی بیوی زندہ ہے۔بیوی فوت ہو گئی خاوند زندہ ہے اور ہر دو کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جنت میں پہنچادیا اپنے اپنے وقت پر۔تو وہ جو بعد میں جانے والی روح ہے وہ اتنی وسیع جنت میں اپنے ساتھی کو اپنے زور سے کیسے تلاش کرے گی؟ کر ہی نہیں سکتی خواہ کتنی ہی خواہش ہو اس کے دل میں کہ اس جنت میں بھی اکٹھے رہیں۔خواہش نہیں پوری ہوسکتی جب تک اللہ تعالیٰ اس خواہش کو پورا کرنے کا ارادہ اور حکم نہ کرے۔خدا تعالیٰ کو ناراض کر کے خدا تعالیٰ کا نہ پیار حاصل کیا جاسکتا ہے، نہ اپنی خواہشات کو جن میں کوئی بدی اور برائی نہیں، پورا کیا جا سکتا ہے۔یہ حقیقت ہے اس کائنات کی۔اس واسطے ہر وہ شخص جو جنت میں جانا چاہتا ہے اسے خدا تعالیٰ کا دامن مضبوطی سے پکڑنا پڑے گا اور جو شخص یہ چاہتا ہے کہ جنت میں جاکے اس کے پیارے اس کو ملیں، خدا تعالیٰ کے پیار کو اسے پہلے حاصل کرنا پڑے گا اور خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر اور اس کی رضا کے بغیر اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکتی۔اس واسطے کسی جانے والے پر اس قسم کی حرکات اسلام نے جائز قرار نہیں دیں کہ جو خدا تعالیٰ کو پیاری نہیں اور جتنی زیادہ کسی کے دل میں یہ تڑپ ہوگی مثلاً میرے دل میں ہے کہ جب میں اس جہان سے جاؤں تو منصورہ بیگم اور میں ، ہم دونوں اکٹھے ہو جائیں۔میں جانتا اور سمجھتا ہوں کہ میری یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ کا حکم نہ ہو اور خدا تعالیٰ کا حکم میرے حق میں نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کو راضی نہ کروں۔اس واسطے اصل چیز تو یہ ہے کہ بغیر کسی خواہش کے کہ کوئی بدلہ خدادے خود اتنا حسین اور نورانی وجود ہے اور اتنے اس کے ہمارے اوپر احسان ہیں کہ اس کو پانے کے لئے، اس کی رضا کے لئے سارے اعمال صالحہ کرنے چاہئیں لیکن اس نے ہمارے دل میں خواہشات بھی رکھیں ہم نے خود تو نہیں پیدا کیں۔نیکی کے راستوں پر آگے بڑھنے کی خواہش کوئی انسان نہیں پیدا کرسکتا اپنے اندر