انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 419 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 419

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث پھر آپ فرماتے ہیں۔۴۱۹ سورة الحديد عام لوگوں نے شہید کے معنی صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ جو شخص لڑائی میں مارا گیا یا دریا میں ڈوب گیا و با میں مر گیا وغیرہ مگر میں کہتا ہوں کہ اسی پر اکتفا کرنا اور اسی حد تک اس کو محدود رکھنا مومن کی شان سے بعید ہے۔شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کرسکتا۔وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہتا ہے یہاں تک کہ اگر محض خدا تعالیٰ کے لئے اس کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اس کو ملتا ہے اور وہ بدوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کئے اپنا سر رکھ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ بار بار مجھے زندگی ملے اور بار بار اس کو اللہ کی راہ میں دوں۔ایک ایسی لذت اور سروران کی روح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جوان کے بدن پر پڑتی ہے اور ہر ضرب جو ان کو پیس ڈالے ان کو پہنچتی ہے وہ ان کو ایک نئی زندگی بنئی مسرت اور تازگی عطا کرتی ہے۔یہ ہیں شہید کے معنی “۔(احکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء) (خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۱۵۱ تا ۱۵۷) آیت ۲۲ سَابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَ رُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ اے لوگو! تم اپنے رب کی طرف سے آنے والی مغفرت اور ایسی جنت کی طرف تیزی سے بڑھو ( سَابِقُوا ) یعنی ساری اشیاء کا استعمال اس طرح کرو، اپنی صلاحیتوں کی نشوونما، پرورش اس طرح کرو، ان کا استعمال اس طرح کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مغفرت اور ایسی جنت کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہو جس کی قیمت و وسعت، آسمان اور زمین کی قیمت کے برابر ہے اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لئے تجویز کی گئی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ