انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 418
تفسیر حضرت خلیلی امسیح اثاث ۴۱۸ سورة الحديد دیتی ہے۔صدق مجسم قرآن شریف ہے اور پیکر صدق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ذات ہے ( کیونکہ آپ نے اپنی زندگی میں قرآن کریم کی ہدایت پر سچا اور پورا عمل کر کے ہمارے لئے ایک کامل اسوہ پیش کیا) اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے مامور ومرسل حق اور صدق ہوتے ہیں۔پس جب وہ اس صدق تک پہنچ جاتا ہے تب اس کی آنکھ کھلتی ہے اور اسے ایک خاص بصیرت ملتی ہے جس سے معارف قرآنی اس پر کھلنے لگتے ہیں۔میں اس بات کے ماننے کے لئے کبھی بھی تیار نہیں ہوں کہ وہ شخص جو صدق سے محبت نہیں رکھتا اور راستبازی کو اپنا شعار نہیں بناتا وہ قرآن کریم کے معارف کو سمجھ بھی سکے۔اس لئے کہ اس کے قلب کو اس سے مناسبت ہی نہیں کیونکہ یہ تو صدق کا چشمہ ہے اور اس سے وہی پی سکتا ہے جس کو صدق سے محبت ہو۔(احکم جلد ۹ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ ۱۷ پریل ۱۹۰۵ صفحه ۵) پھر آپ فرماتے ہیں۔صدیق وہ ہوتے ہیں جو صدق سے پیار کرتے ہیں۔سب سے بڑا صدق لا إله إلا الله ہے اور پھر دوسرا صدق مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ ہے۔وہ صدق کی تمام راہوں سے پیار کرتے ہیں اور صدق ہی چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔صدیق عملی طور پر صدق سے 66 پیار کرتا اور کذب سے پر ہیز کرتا ہے (احکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۶) شہید کے متعلق آپ فرماتے ہیں۔مرتبہ شہادت سے وہ مرتبہ مراد ہے جبکہ انسان اپنی قوتِ ایمان سے اس قدر اپنے خدا اور روز جزا پر یقین کر لیتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے۔تب اس یقین کی برکت سے اعمالِ صالحہ کی مرارت اور تلخی دور ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہر ایک قضا و قدر بباعث موافقت کے شہد کی طرح دل میں نازل ہوتی اور تمام صحن سینہ کو حلاوت سے بھر دیتی ہے اور ہر ایک ایلام انعام کے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔سوشہید اس شخص کو کہا جاتا ہے جو قوت ایمانی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا مشاہدہ کرتا ہو اور اس کے تلخ قضا و قدر سے شہد شیرین کی طرح لذت اُٹھاتا ہے اور اسی معنے کی رُو سے شہید کہلاتا ہے اور یہ مرتبہ کامل مومن کے لئے بطور نشان کے ہے۔( تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۲۰ تا ۴۲۱)