انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 417
تغییر حضرت علیلیه اسبح الثالث ۴۱۷ سورة الحديد صفات فاضلہ پر قائم بھی ہو۔( تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۲۰) پھر آپ تریاق القلوب ہی میں فرماتے ہیں۔وو صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے یعنی ایسے اکمل طور پر کتاب اللہ کی سچائیاں اس کو معلوم ہوجائیں کہ وہ بوجہ خارق عادت ہونے کے نشان کی صورت پر ہوں اور اس صدیق کے صدق پر گواہی دیں۔(ضمیمہ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۱۶) پھر الحکم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات میں سے ایک ارشاد کی ڈائری یہ ہے:۔صدیق کے کمال کے حصول کا فلسفہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی کمزوری اور ناداری کو دیکھ کر اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے اور صدق اختیار کرتا اور جھوٹ کوترک کر دیتا ہے اور ہر قسم کے رجس اور پلیدی سے جو جھوٹ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے دُور بھاگتا ہے اور عہد کر لیتا ہے کہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا، جھوٹی گواہی نہ دوں گا اور نہ جذ بہ نفسانی کے رنگ میں کوئی جھوٹا کلام کروں گا ، نہ لغوطور پر نہ کسپ خیر اور نہ دفع شر کے لئے یعنی کسی رنگ اور حالت میں بھی جھوٹ کو اختیار نہیں کروں گا۔جب اس حد تک وعدہ وو کرتا ہے تو گویا ايَّاكَ نَعْبُدُ پر وہ ایک خاص عمل کرتا ہے اور اس کا وہ عمل اعلیٰ درجہ کی دو عبادت ہوتی ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ سے آگے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے خواہ یہ اس کے منہ سے نکلے یا نہ نکلے لیکن اللہ تعالیٰ جو مبداء الفیوض اور صدق اور راستی کا سر چشمہ ہے اس کو ضرور مدد دے گا اور صداقت کے اعلیٰ اصول اور حقائق اس پر کھول دے گا۔مثلاً جیسے کہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو تاجر اچھے اصولوں پر چلتا ہے اور راستبازی اور دیانتداری کو ہاتھ سے نہیں دیتا اگر وہ ایک پیسہ بھی تجارت کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک پیسہ کے بدلے لاکھوں روپے دے دیتا ہے اسی طرح جب عام طور پر ایک انسان راستی اور راستبازی سے محبت کرتا ہے اور صدق کو اپنا شعار بنالیتا ہے تو وہی راستی اس عظیم الشان صدق کو کھینچ لاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھا