انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 415
۴۱۵ سورة الحديد تغییر حضرت خلیلی لمسیح الثالث خدا تعالیٰ پر اس کی ذات اور صفات کی معرفت کے نتیجہ میں ایمان لایا بلکہ اس کے حسن اور اس کے احسان کو دیکھ کر اس کے ساتھ ایک محبت اور ایک عشق پیدا ہوتا ہے اور جب عشق کا اور محبت کا جذبہ دلوں میں پیدا ہو جائے تو زبانوں پر بہر حال اس کا اظہار ہوتا ہے اور وہ اظہار بے تکلف ہوتا ہے۔اس واسطے جب ایمان دلوں میں داخل ہو جائے تو زبان اس کا اقرار کرتی ہے اور پھر محض اقرار کو وہ انسان کافی نہیں سمجھتا بلکہ اپنے اعمال سے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ واقعہ میں اس کے دل کے اندر ایمان داخل ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا لَكُمْ لا تُؤْمِنُونَ بِاللہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ وَ الرَّسُولُ يَدْعُوكُم لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ رسول تمہیں اس طرف بلا رہا ہے کہ جس خدا نے تمہیں پیدا کیا جو تمہارا رب ہے اس پر ایمان لاؤ - صَوَّرَكُمْ فَاحْسَنَ صُوَرَكُم (المؤمن : ۶۵) وہ خدا جس نے تمہیں وجود دیا اور تمہارے اندر بہترین صلاحیتیں پیدا کیں اور جس کا منشاء یہ ہے کہ وہ صلاحیتیں نشو ونما پائیں تا کہ جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور جس مقصد کے حصول کے لئے اسے یہ استعداد میں اور صلاحیتیں دی گئی ہیں وہ مقصد پورا ہو یعنی انسان کا ذاتی تعلق، محبت ذاتی اور پیار اور وہ عشق کا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ پیدا ہو جائے۔وَ قَد أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِيْنَ اگر تم ایمان لاؤ اور ایمان کے حقائق پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ تم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ تمہاری فطرت کے عین مطابق ہے۔اسی غرض کے لئے تمہاری فطرت کو پیدا کیا گیا تھا اور فطرت کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے اور ان کی نشوونما کی خاطر خدا تعالیٰ اپنے بندے پر ایت بینت یعنی کھلے کھلے نشان نازل کرتا ہے اور خدا کا حقیقی بندہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی عظمت اور جلال کے لحاظ سے اور اپنے کمال کو پہنچ جانے کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باقی تمام رسول جو پہلے گزرے اور وہ تمام مقر بین الہی جو بعد میں آئے وہ اس عبد کامل کی ظلیت میں عبد بنے جو کہ عبودیت کے اعلیٰ اور ارفع اور کامل مقام پر کھڑا ہے۔پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی پہلوں نے بھی آیات بینات حاصل کیں اور بعد میں آنے والے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی عظمت اور جلال کو ظاہر کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے کھلے کھلے نشان پانے والے بنے اور یہ نشان اس لئے ظاہر ہوئے کہ جو شیطانی ظلمات انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ان