انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 412 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 412

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۱۲ سورة الواقعة انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی ہے اور میں ایک نئے نظریہ (Theory) پر عمل کر رہا ہوں جو اس اصول کو غلط قرار دے دے۔پس سائنسدان آج ایک چیز پر ا کٹھے ہو کر کہتے ہیں کہ بس یہی حقیقت ہے اور کل اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے کسی بندہ کو اس چیز کی کسی اور صفت کی طرف متوجہ کر دیتا ہے اور انسان کو پتہ لگتا ہے کہ انسان کی عقل ناقص کا یہ دعویٰ کہ کامل قدرت کے ہاتھ نے جو پیدا کیا میں نے اس کی تمام صفات کا احاطہ کر لیا ہے یہ بیوقوفی ہے۔تو جب ایک مکھی یا ایک کیڑے کے پاؤں میں پائی جانے والی صفات کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا تو اس کے ساتھ ہی کسی مسلمان کا یہ کہہ دینا کہ خدا تعالیٰ کا جو کلام ہے اس کے بطون کا ہم احاطہ کر سکتے ہیں اس سے زیادہ حماقت کی ہمارے نزدیک کوئی بات نہیں۔جس طرح خدا تعالیٰ کی خلق میں ہر چیز کی صفات غیر محدود ہیں اسی طرح قرآن کریم جس نے قیامت تک نوع انسانی کا رہبر بننا ہے اس کے معانی بھی غیر محدود بطون واسرار کے حامل ہیں۔ایک تیسری بات ہمیں کتاب مکنون کے مضمون سے یہ پتہ لگی کہ اگر ہم قرآن عظیم کو کتاب مکنون تسلیم نہ کریں اور یہ سمجھیں کہ اس میں جو کچھ علم تھا اور معارف جو اس میں تھے اور حقائق جو اس میں تھے اور رموز و اسرار روحانی جو اس میں تھے وہ سارے کے سارے پہلوں کے علم میں آگئے اور آگے کوئی نئی چیز باقی نہیں رہی تو ہمارا یہ تسلیم کر نا اس اعلان کے مترادف ہوگا کہ ہم قرآن عظیم کو خدا تعالیٰ کا کلام نہیں سمجھتے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک مکھی کی صفات کا کوئی انسانی علم احاطہ نہیں کر سکتا لیکن خدا تعالیٰ کی ایک عظیم اور کامل اور مکمل شریعت کے علوم اور اس کے بطون پر انسانی عقل احاطہ کر سکتی ہے یا اس کا علم اپنے دائرہ میں اسے لے سکتا ہے پس اس کا خدا تعالیٰ کے ایک کامل اور مکمل کلام ہونے کے نتیجہ میں ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ قرآن کریم میں ہر زمانہ میں نئے نئے بطون ظاہر ہوتے رہیں گے اور قیامت تک قرآن کریم کے نئے علوم دنیا کے سامنے آتے چلے جائیں گے۔اگر ایسا نہیں سمجھو گے تو خدا پر اور محمدصلی للہ علیہ وسلم پر اور قرآن عظیم پر اعتراض کرنے والے ٹھہرو گے۔پس قرآن عظیم غیر محدود معارف اور غیر محدود روحانی اسرار کا خزانہ ہے اگر یہ خدا کا کلام ہے تو یہ بات ہمیں تسلیم کرنا پڑے گی اور جب غیر محدود معارف کا خزانہ ہے تو ہر زمانہ میں اس کے نئے سے نئے بطون ظاہر ہو کر کتاب مکنون کا ورق الٹیں گے اور کتاب مبین کا حصہ بنتے چلے جائیں گے۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۳۰۰ تا ۳۰۶)