انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 410 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 410

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۱۰ سورة الواقعة ہوئی تو نے مسائل پیدا ہو گئے۔مثلاً جب صنعت ابھی پوری طرح عروج کو نہیں پہنچی تھی۔اس میں پوری طرح وسعت پیدا نہیں ہوئی تھی۔اس میں مزدور اکٹھا نہیں ہوا تھا۔غریب مزدور بکھرا ہوا تھا۔لیکن جب صنعت نے ترقی کی۔کارخانے لگے تو مزدور ا کٹھے ہو گئے۔پہلے ایسا نہیں تھا۔اب اکٹھے ہو گئے اور ایک نئی حالت پیدا ہوئی۔جب چیز پیدا ہوئی تو نئے مسائل پیدا ہوئے۔جب نئے مسائل پیدا ہوئے تو ان کا حل ضروری ہو گیا اتنا ضروری کہ جب انسان لا چار ہوا تو وہ کبھی اشترا کی بنا کبھی وہر یہ بنا۔کبھی عیسائی بنا۔کبھی عیسائیت کو چھوڑنے والا بنا۔کبھی غافلا نہ اندھیروں میں رہتے ہوئے بھی خدا کی طرف جھک کر اس نے حل کے تلاش کی کوشش کی تو کبھی خدا سے دور ہوکر اسلام سے باہر اس نئے مسئلہ کے حل کی کوشش کی اور ناکام ہوا۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے مظہر بندوں میں سے کچھ کو زندگی کے نئے مسائل کے حل کے لئے علوم سکھائے مثلاً میں نے ہی بعض اشتراکیوں کو کہا کہ تم غریب سے پیار کرنے والے نہیں ہو کیونکہ اسلام اس حل سے جو تم پیش کرتے ہو کہیں زیادہ اچھا حل پیش کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو امت محمدیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے عاشق ہیں کے طفیل ہم نے قرآن کریم کے نئے معارف حاصل کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پایا اور جو نئے مسائل نوع انسانی کو درپیش تھے ان کا حل اتنا اچھا اتنا پیارا کہ دنیا سوائے اثبات میں سر ہلانے کے اور کچھ کر نہیں سکتی۔میں نے پہلے بھی بتایا کہ یورپ کے حالیہ دورہ میں میں نے چار جگہ پر پریس کا نفرنس بلا کر ان کو بتایا کہ میں اسلام کی تعلیم تمہارے سامنے پیش کرنے آیا ہوں اور کسی نے بھی بہ نہیں کی۔سب نے کہا کہ تعلیم بہت اچھی ہے اور میں نے تحدی سے کہا کہ اشتراکیت وغیرہ وغیرہ مکاتیب فکری تعلیم پیش نہیں کر سکتے تھے۔صرف خدا تعالیٰ ہی ہے جو اس قسم کی اعلیٰ تعلیم انسان کی بہبود کے لئے دے سکتا ہے۔پس نئے مسائل چونکہ زمانہ کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے مظہر بندوں میں سے بعض کو ان مسائل کے حل کرنے کے لئے قرآن کریم کے نئے معانی سکھاتا ہے اور ان نئے معانی کا تعلق کتاب مکنون سے ہے۔ورق الٹتے ہیں اور کتاب مکنون کے یہ حصے کتاب مبین کا حصہ بن جاتے ہیں۔یہ بات کہ زمانہ بدل رہا ہے اور اسلام پر آج تک نئے اعتراضات پڑتے چلے آئے ہیں اور نوع انسان کو نئے مسائل در پیش آتے ہیں۔یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ کتاب جس کا دعویٰ