انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 409 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 409

تفسیر حضرت خلیلة اسبح الثالث ۴۰۹ سورة الواقعة اور وہ تحقیق ہمارے حق میں مفید ہوتی ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے عقل دی ہم نے بھی سوچا اور پڑھا اور ان ہی سائنسدانوں نے چند سال کے بعد یہ کہا کہ شہد کی مکھی تقریباً۵۰ فیصد اپنے جسم کے Glands ( غدود ) میں سے سیکریشن (Seekeration) یعنی غدود کا رس نکال کر شہد کے اندر ملاتی ہے۔پھر انہوں نے یہ کہا کہ جو باہر سے خادم لکھی نیکٹر (Nector) کا ذرا سا جزو لے کر آتی ہے تو چھتے میں رہنے والی مکھیاں زبان باہر نکالتی ہیں تو خادم مکھیاں اس کے اوپر رکھ دیتی ہیں اور چھتے میں رہنے والی مکھی زبان کو نکالنے اور اندر لے جانے کی حرکت ہزاروں ہزار مرتبہ کرتی ہے اور اس طرح پانی کو خشک کر کے شہد کو قوام کی شکل دیتی ہے۔وہ بھی اس کے منہ میں سے نکلا ہے یعنی جو منہ کے اندر گیا اس کی شکل اور تھی اور جو منہ میں سے نکلا اس کی شکل اور تھی جو منہ میں گیاوہ پانی سے مشابہ تھا اور جو باہر نکلا اس کی شکل زیادہ تر شیرے سے ملتی ہے۔دو مختلف شکلیں ہوئیں اور پھر قریباً ۵۰ فیصد اپنے جسم کے حصے ملادیئے اب یہ نئی تحقیق نے علم دیا۔جو اسلام سے پیار کرنے والے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے نور ایمان دیا ہوا تھا انہوں نے کہا تمہار اعتراض غلط ہے کیونکہ اصل کیفیت یہ ہے کہ جس چیز پر تم اعتراض کر رہے ہو وہ حقیقت سے نہیں بلکہ حقیقت شے کا نصف ہے جب دو کو ملا دو گے اس کو پورا کر دو گے تو اعتراض خود ہی ساقطہ ہو جائے گا۔پس چونکہ انسانی زندگی میں ایک حرکت ہے وہ ایک جگہ نہیں کھڑی ہوئی۔زمانہ کروٹ لیتا ہے اور زمانہ جدید بن جاتا ہے۔حال ماضی بن جاتا ہے اور جو مستقبل ہے وہ حال کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور ایک جدید زمانہ بن جاتا ہے اور ان انقلابات کے نتیجہ میں بہت سے خیالات میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور جو مخالف حرکت ہے وہ اسلام پر نئے اعتراضات کرتی ہے۔جب ہر زمانہ اسلام پر نئے اعتراضات کرتا چلا آیا ہے اور کرتا چلا جائے گا تو ضروری ہوا کہ قرآن کریم کے وہ بطون جو پہلوں پر (ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے مخفی تھے آج اُمت مسلمہ کو ان کی ضرورت پڑ گئی۔ظاہر ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ سے نئے معارف اور حقائق کا علم حاصل کرنے والے پیدا ہوں اور اس طرح نئے اعتراضات کارڈ کریں۔دوسرے مسلسل تبدیلی جسے ہم انقلابی ریوولیوشن (Revolution) نہیں۔انقلاب اور ریوولیوشن (Revolution) کو آپس میں گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے۔ہم انقلاب کو ریوولیوشن (Revolution) کے معنوں میں استعمال نہیں کرتے۔بنیادی تبدیلی جب حالات میں جب پیدا