انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 32

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۲ سورة لقمن خدمت پر لگایا ہوا ہے اور اس رنگ میں لگایا ہوا ہے کہ اپنی اس خلق کو تمہاری خدمت پر لگانے کے نتیجہ میں تمہارے لئے جن نعمتوں کے سامان پیدا کر دیے گئے ہیں۔انہیں تم شمار نہیں کر سکتے انہیں تم گنتی میں نہیں لا سکتے۔وَاسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةٌ وَبَاطِنَةً اور تم پر اپنی نعمتیں ظاہری ہوں یا باطنی پانی کی طرح بہادی ہیں جس طرح سمندر کے پانی کے قطرے نہیں گنے جاسکتے (شائد وہ گنے جائیں لیکن ) اس سے زیادہ بڑھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں اور اس کے احسانوں کا شمار نہیں ہے۔اس سے تمہیں یہ سبق لینا چاہیے اس سے یہ حقیقت تم پر واضح ہونی چاہئے کہ پیدائش عالم کا مقصد انسان سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس کے باوجودلوگوں میں سے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارہ میں بات شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا تو خدا ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو اس کو ہمارے ساتھ کیا غرض ؟ اور اس بحث میں ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہوتی ہے وَلا ھدی نہ صحف سابقہ میں سے کسی آسمانی صحیفے کا اس کے پاس کوئی استدلال ہوتا ہے وَلا کتب منیر اور نہ قرآن کریم سے کوئی استدلال وہ ایسا کر سکتے ہیں۔تو عقل، پہلی کتابیں جو ان میں سے سچائیاں قائم رہ گئی ہیں اور دنیا کو روشن کرنے کے لئے جو کتاب منیر قرآن کریم میں نازل ہوئی ہے ان میں سے کوئی پختہ دلیل نکال کر وہ اپنے موقف کی تائید میں بیان نہیں کر سکتے اور اس بات سے وہ انکار کرتے ہیں کہ یہ دنیا کسی مقصد کے پیش نظر پیدا کی گئی ہے اور آخرت پر جو شخص ایمان نہیں لاتا اور دنیا میں ایسے انسانوں کی بڑی کثرت ہے ) اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پیدائش انسانی کی کوئی غرض نہیں ساری دنیا کو، کائنات کو ، موجودات کو جو پیدا کیا گیا ہے یہ بے مقصد ہے انسان اس دنیا میں آیا ہے اور مرجائے گا اور ختم ہو جائے گا یہ قصہ ہے۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۳۰۹،۳۰۸)