انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 392 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 392

تفسیر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ۳۹۲ سورة الرحمن اللہ تعالی ازلی و ابدی ہے وہ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ہے۔وہ اپنی ذات سے زندہ ہے۔وہ کامل حیات کا مالک ہے اور اپنی ذات سے قائم ہے۔اس کے قیام میں بھی کمال پایا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہستی نہیں جو اپنی ذات میں زندہ ہو اور اپنی ذات سے قائم رہ سکتی ہو۔اس لئے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خدا کی ذات بزرگ و مقدس ہے۔ضعف اور ناتوانی اس کی طرف منسوب ہی نہیں کی جاسکتی۔اس کی ساری صفات اپنے کمال پر پہنچی ہوئی ہیں۔اس کی ذات اور صفات میں تھوڑ اسا ضعف اور نقصان بھی نہیں پایا جاتا۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۰۴ تا ۲۰۷) چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مکان کے لحاظ سے یا زمان کے لحاظ سے ( دونوں پہلو اس کے اندر آتے ہیں) تمہیں اپنی وجہ یعنی تو جہ کو مسجد حرام کی طرف رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ فرمایا: وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ اس کے معنے کرتے ہوئے امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے۔جو باقی رہنے والی چیز ہے وہ ایسے اعمال صالحہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کئے جاتے ہیں۔یعنی وہ اعمال صالحہ جنہیں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر بجالاتا ہے وہ گویا وجه ربك کے مترادف ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جو کوشش کی جاتی ہے وہ قائم رہتی ہے اور باقی تو ہر عمل ضائع ہو جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک اور جگہ فرماتا ہے: كُل شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ (القصص: ۸۹) امام راغب نے اس آیت کے یہ معنی کئے ہیں کہ كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَعْمَالِ الْعِبَادِ هَالِكُ وَبَاطِلُ إِلَّا مَا أُرِيْدَ بِهِ اللَّهُ یعنی انسانوں کے اعمال میں سے ہر عمل ہلاک ہونے والا اور لا یعنی اور باطل ہے سوائے اس عمل کے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔آیت ۴۷ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِن خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۱۴۹،۱۴۸) خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِن یعنی وہ شخص جو اپنے دل