انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 391 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 391

۳۹۱ سورة الرحمن تفسیر حضرت خلیفة اسبح الثالث جماعت کو بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا ہونے کی وجہ سے اس دنیا میں بھی ایک لمبا عرصہ عزت کی زندگی عطا کی جاتی ہے اور صالحین کا بدل پیدا کر کے ان اعمال صالحہ کو اس وقت تک کہ اس قوم اور سلسلہ کی ہلاکت کا وقت آجائے انہیں قومی بقاء عطا کرتا ہے۔غرض يَبْقَى وَجُهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ و الاكرام وہ اعمال جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر کئے جاتے ہیں جن میں غیر کی ملونی نہیں ہوتی۔جنہیں انسان بے نفس ہو کر اپنے اوپر عجز انکسار نیستی اور فنا طاری کر کے خود کو کچھ نہ سمجھ کر بلکہ اپنے رب کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے۔اس کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لئے کوشش اور مجاہدہ کر کے بجالاتا ہے۔انہیں اسی رنگ میں اس قوم میں باقی رکھا جاتا ہے کہ جب اس کے بعض افراد اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو ان کے بعض قائم مقام کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس قوم میں ان اعمال صالحہ کا ایک لمبا سلسلہ قائم کر دیتا ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۴۲۴ تا ۴۲۸) اسلام کہتا ہے اللہ ہے اور وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔عدد کے لحاظ سے وہ ایک ہے اور مرتبہ کے لحاظ سے اللہ کا کوئی ہم پلہ اور ہم مرتبہ نہیں ہے۔واجب الوجوب ہونے میں ایسی چیز یا کوئی ایسا انسان یا جاندار یا فرشتہ یا جن یا جو مرضی کہ لوغرض کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو واجب الوجوب ہو یعنی جس کا ہونا ضروری ہو۔اللہ کے سوا ہر چیز اپنی ذات کے لحاظ سے ہلاک ہونے والی ہے اور كُل مَنْ عَلَيْهَا فان کے اعلان کے نیچے آتی ہے۔۔۔۔۔۔پھر اسلام نے ہمیں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ازلی ابدی ہے۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔میں یہ بتادوں کہ زمانہ کے متعلق جب ہم کوئی لفظ استعمال کرتے ہیں یا کوئی بات کرتے ہیں تو ہم اپنے قائم کردہ معیار کے مطابق بات کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ ازلی ابدی ہے اور وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔فرمایا يَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ اللہ تعالیٰ پر کبھی موت اور فنا طاری نہیں ہوسکتی اور ایسے ہی ادنی درجہ کا نعطل حواس بھی اس کے لئے جائز نہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب طلباء کلاس میں بیٹھے ہوتے ہیں تو اگر کسی طالب علم کا دماغ تھکا ہوا ہو یا وہ لا پرواہ ہو تو اگر ایک لمحہ کے لئے اس کی توجہ اپنے استاد کی باتیں سننے سے ہٹ جائے تو پھر اسے یہ پتہ نہیں لگتا کہ استاد کیا کہہ رہا ہے مگر اللہ تعالی تعطل حواس کے نقص سے منزہ ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات میں ایک لمحہ کے ہزارویں حصہ میں تعطل حواس نہیں پایا جاتا۔یہ مکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں کسی وقت تعطل حواس پیدا ہو جائے۔