انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 390 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 390

تفسیر حضرت خلیلة اسم الثالث ۳۹۰ سورة الرحمن ان معنوں کی رو سے ان پر ہلاکت اور فتاوار دہو جاتی ہے۔تیسرا طریق ان بد اعمال کو فنا کرنے کا خدا تعالیٰ نے یہ رکھا ہے کہ وہ ان اعمال اور ان کے بجالانے والوں کو جہنم میں ڈال کر ان بد اعمال کو فنا کر دیتا ہے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم پر ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اس میں کوئی انسانی روح نہیں رہے گی۔(کنز العمال صفحه ۲۴۰ مصری ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انسان چاہے وہ کتنے ہی گنہ گار کیوں نہ ہوں۔چاہے وہ کتنے ہی خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والے کیوں نہ ہوں ان کے بد اعمال جہنم میں جا کر ایک وقت میں ہلاک اور فنا ہو جائیں گے۔کیونکہ یہ بات تو ماننے کے قابل نہیں کہ بد اعمال فنا بھی نہ ہوں اور ان کے ساتھ ایک شخص کو ایک وقت تک جہنم میں رکھا جائے اور دوسرے وقت میں اسی شخص کو انہی بد اعمال کے ساتھ جنت میں لے جایا جائے۔غرض جہنم بھی بد اعمال کی ہلاکت کا ایک ذریعہ ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ اعمال صالحہ جن سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جاتی ہے۔اور جنہیں فنا فی الرسول کے ذریعہ اور تقویٰ کی ان باریک راہوں پر گامزن ہو کر بجالایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے۔ان کی بقا کے بھی مختلف طریق ہیں۔ذاتی طور پر اس شخص کے اعمال جو وفات پا جاتا ہے۔جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے اس دنیا میں باقی نہیں رہتے اور اس طرح ان اعمال پر بھی اس فرد کے ساتھ ہی ایک فناوارد ہو جاتی ہے۔لیکن جس طرح اس کی روح کو زندہ رکھا جاتا ہے۔اسی طرح ان نیک اعمال کو بھی اللہ تعالیٰ اس کے لئے زندہ رکھتا ہے۔اور صرف زندہ ہی نہیں رکھتا بلکہ انہیں بڑھا تا رہتا ہے۔وہ ان سے بیج کا کام لیتا ہے اسی لئے جنت کی نعماء نہ ختم ہونے والی ہیں۔جیسا کہ فرمایا۔عَطَاء غَيْرَ مَجْنُودٍ (هود : ۱۰۹) یعنی ان نعماء پر کبھی فتاوار نہیں ہوتی وہ باقی رہتی ہیں اور باقی رہیں گی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمان باغوں کی شکل میں اور اعمال صالحہ نہروں کی شکل میں اُخروی زندگی میں باقی رکھے جاتے ہیں۔یعنی وہ افراد جن کی روحوں کو خدا تعالیٰ نے اپنی رضا کے عطر سے ممسوح کیا۔ان کی روحوں کے ساتھ ان کے اعمال صالحہ بھی باقی رکھے جاتے ہین جن سے وہ ابد الآباد تک فائدہ حاصل کرتے رہیں گے۔اعمال صالحہ کی بقاء کا دوسرا طریق جو ہمیں اسلام میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی سلسلہ کو قائم کرتا ہے اس لئے کہ وہ اس کی عظمت اور اس کے جلال کو قائم کرے تو اس برگزیدہ