انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 30
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۰ سورة لقمن بولتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں اپنی صفات کے جلووں کے ذریعہ بے شمار خواص پیدا کر دیئے ہیں۔تیسرے میں نے یہ بتایا ہے کہ جب تک انسان کوشش کرتا رہے گا مثلاً اگلے دو کروڑ سال تک بھی ہر روز نئی سے نئی چیز اور اس میں ایک نئے سے نیا خاصہ دریافت ہوتا رہے گا پس اگلے دو کروڑ سال تو کیا ان گنت سالوں تک خدا تعالیٰ کی مخلوق کے خواص معلوم ہوتے رہیں گے۔اشیاء میں آج جو خواص پائے جاتے ہیں وہ محدود بھی ہوں تب بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے نئے سے نئے جلوے ظاہر ہوتے رہتے ہیں یہ ختم نہیں ہو سکتے۔ہمیشہ نئی سے نئی مخلوق خدا کے بندوں کی خدمت کے لئے تیار ہوتی رہتی ہے۔پس اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے اور اس بات کو اچھی طرح بتا کر ذہنوں میں بٹھایا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز انسان کے فائدہ کیلئے پیدا کی گئی ہے۔اس سے فائدہ حاصل کرنا انسان کی اپنی کوشش پر منحصر ہے۔۔۔۔۔۔در اصل مذہب پر اعتراض کرنے والے لوگوں میں ایک کمزوری یہ پائی جاتی ہے کہ وہ صراط مستقیم اور راہ ضلالت میں فرق اور تمیز کرنے کے قابل نہیں ہوتے مثلاً ایک شخص ہے جو اپنے کھیتوں میں جا کر دن رات محنت کرتا ہے اور ساتھ دعا ئمیں بھی کرتا ہے اور اس طرح اس کو بہت اچھی فصل میسر آتی ہے اس کو ایک ایکٹر میں سے دو ہزار کی پیداوار ہوتی ہے (ویسے دنیا میں پانچ پانچ اور سات سات ہزار فی ایکڑ کمانے والے لوگ بھی ہیں) خرچ کرنے کے بعد اسے ۳۔۴ ہزار روپیہ بچ جاتا ہے۔اس نے صراط مستقیم پر چل کر یعنی جائز ذرائع سے محنت کر کے یہ دولت کمائی۔زمین اس کے لئے پیدا کی گئی تھی۔اُس نے اس کے خواص مثلاً یہ کہ وہ گندم بھی پیدا کرسکتی ہے اس نے زمین کے اس خاصہ سے فائدہ اُٹھایا۔اُس نے خدا کا شکر ادا کیا اور بڑی الحمد پڑھی۔خدا تعالیٰ نے اس کو ایک اور سبق دینا تھا رات کو چور آیا اور وہ اسکی جمع شدہ پونجی چرا کر لے گیا۔اب ایک ماہ پہلے چار ہزار روپے کی رقم جو زمیندار کے پاس تھی وہ چور کے پاس چلی گئی اور چور اس کا مالک بن گیا۔مگر ان دو ملکیتیوں میں فرق کرنا پڑتا ہے۔چور کی کوشش جہنم کی طرف لے جانے والی کوشش ہے یعنی چوری کے ذریعے مال کو حاصل کر لیا یا رشوت کے ذریعہ حاصل کیا یا کر پشن (Corruption) کے ذریعے حاصل کر لیا یا ذہنی بددیانتی کے ذریعہ حاصل کر لیا غرض ہزار قسم کی غلط راہیں ہیں جن پر انسان بہک جاتا ہے اور اپنی جہالت سے اُن کو اختیار کر لیتا ہے لیکن اسلام نے ہمیں یہ کہا کہ ہر چیز انسان کے