انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 388
تفسیر حضرت لعليلة امسیح الثالث ۳۸۸ سورة الرحمن ہمیں کل اپنے ایک اچھے دوست، پایہ کے عالم ، خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق اور احمدیت کے فدائی کی جدائی کا صدمہ پہنچا ہے۔اور فطرتا ہمیں اس سے غم اور دکھ محسوس ہوتا ہے۔لیکن ہم خدا تعالیٰ کی کتاب کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اپنے رب سے تسکین حاصل کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان دو آیات میں جو میں نے ابھی پڑھی ہیں فرماتا ہے کہ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالاکرام زمین پر ہر چیز جو پائی جاتی ہے وہ فنا ہونے والی ہے۔سوائے ان باتوں اشیاء اور وجودوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ باقی رکھنا چاہے وہ خداذ والجلال بھی ہے اور ذوالاکرام بھی ہے۔ان دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک ہی وقت میں اعلان فنا بھی کیا ہے اور اعلان بقا بھی کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو کلیتاً فنا ہونے سے محفوظ رکھا ہے۔اور اس نے ان چیزوں کو اپنی مشیت کے ماتحت ایک بقا عطا کی ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اور جو دو آیات میں نے پڑھی ہیں وہ بھی مختصراً اس کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ ایک تو انسان کی روح مرنے کے بعد بقا حاصل کرتی ہے اور دوسرے قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اعمال صالحہ کو بھی باقی رکھتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ ان دونوں آیات میں فرماتا ہے کہ ہر چیز جو اس دنیا میں ہے۔آخر یہاں سے چلی جائے گی۔نہ انسان یہاں رہے گا کہ وہ بھی فانی ہے اور نہ اس کے اعمال۔جہاں تک مرنے والے کی ذات کا تعلق ہے اس دنیا میں باقی رہیں گے بلکہ وہ اعمال مرنے والے کے ساتھ ہی دوسرے جہاں میں لے جائے جائیں گے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَهْلِ وَالْإِكْرَامِ ہر چیز جو زمین پر پائی جاتی ہے فانی ہے۔سوائے ان اشیاء اور وجودوں کے جنہیں خدا تعالیٰ باقی رکھنا چاہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان آیات کے ایک معنی تفسیر صغیر (صفحہ ۷۱۲ ) میں یہی کئے ہیں کہ اس سرزمین پر جو کوئی بھی ہے آخر ہلاک ہونے والا ہے اور صرف وہ بچتا ہے۔جس کی طرف تیرے جلال اور عزت والے خدا کی توجہ ہو۔پس وہ لوگ اپنے ان اعمال کے ساتھ جن کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم رکھنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بقا حاصل کرتے ہیں۔یعنی ان کو بقا حاصل ہوتی ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں (جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے ) صاحب عزت وہی ہوتے ہیں جو