انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 381
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۳۸۱ سورة القمر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القمر آیت ۴۶ سَيْهزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُر ودرو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَوْ يَأْخُذَهُمُ في تَقَلُّبِهِمْ کہ وہ دوڑے پھرتے ہیں۔یہ جو جنگ احزاب ہوئی ، یہ سفروں کے نتیجے میں ہوئی۔رؤسائے مکہ دوڑے پھرتے تھے عرب قبائل کو اکٹھا کرنے کے لیے اور یہودی دوڑے پھرتے تھے رو سائے مکہ کو اکٹھا کرنے کے لیے تاکہ مٹادیا جائے اسلام کو۔اعلان کیا اللہ تعالیٰ نے کہ یہ تو درست ہے کہ تم بڑے انہماک کے ساتھ ، بڑے پیسے خرچ کر کے، اپنا آرام کھو کے سعی میں، کوشش میں اور دوڑ میں لگے ہوئے ہو کہ کسی طرح اسلام کو مٹایا جائے۔تمہیں کس نے یہ امان دی ہے کہ ان سفروں میں تمہیں تباہ کر دیا جائے گا۔میں نے بتایا نا بڑی دوڑ دھوپ کے بعد جنگ احزاب کے حالات پیدا ہوئے اور اللہ جل شانہ کا یہ نشان (آیت) ظاہر ہوا۔سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ ويولون التبر سارے اکٹھے ہو کر آئے تھے تباہ کرنے کے لیے، تباہ و برباد ہو کر چلے گئے وہاں سے۔اور انسان کے ہاتھ سے نہیں فرشتوں کے ہاتھ سے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَوْ يَأْخُذَهُم فِي تَقَلبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِینَ تم اللہ تعالیٰ کو نا کام نہیں کر سکتے اس کے منصوبے میں۔اَوْ يَأْخُذَهُمُ على تخوف پنجابی میں کہتے ہیں بھورنا۔على تخوف کے بھی یہی معنی ہیں یا وہ انہیں آہستہ آہستہ گھٹا کر ہلاک کر دے، یہ دونوں طرح ہوتا ہے یا آگے نسل کم ہو جائے یا نسل مسلمان ہو جائے ، ایک ایک کر کے ، وہ مکہ جس کے سپوت اسلام کو مٹانے کے لیے نکلتے تھے ان میں سے خالد بھی نکلا مگر اسلام کو مٹانے کے لیے نہیں اسلام کا جرنیل بننے کے لیے تو آہستہ آہستہ، آہستہ آہستہ ، بھور بھور کے ان کی طاقت کو خدا کم کرتا چلا گیا اور اسلام کی طاقت اللہ بڑھاتا چلا گیا۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا