انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 376 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 376

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة النجم انسان کیونکہ ان کی سعی کا جو مجموعہ ہے اس کی انتہا کے مطابق قوم ترقی کرتی ہے ویسے ہر فر د بھی اپنی سعی کے مطابق ہی پاتا ہے۔بچوں کو سمجھانے کے لئے میں ایک مثال دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی کو سو روپیہ دینا چاہے اور وہ دو پر راضی ہو جائے تو اس نے خود کو اٹھانوے سے محروم کر دیا۔اگر کوئی فرد خدا تعالیٰ کی اعلیٰ سے اعلیٰ نعمتوں کے حصول کی استعدا در رکھتا تھا یعنی اتنی استعداد رکھتا تھا کہ وہ خدا کے حضور ایسی قربانیاں پیش کر سکے کہ خدا تعالیٰ کے اعلیٰ سے اعلیٰ انعام جو امت محمدیہ میں کسی کو مل سکتے ہیں، وہ پالے اگر اس نے وہ کوشش نہیں کی تو وہ خود کو محروم کرتا ہے اور جو قوم بحیثیت قوم اس لئے پیدا کی گئی کہ وہ دنیا کی معلم اور بادی بنے اس قوم کے ہر فرد کو اپنی قوت کے مطابق اپنی قربانی انتہا تک پہنچادینی چاہیے اور قوت تو بدلتی رہتی ہے ( اس تفصیل میں مجھے جانے کی ضرورت نہیں۔میں اس کی وضاحت کر چکا ہوں) کیونکہ نشوونما ہورہی ہے اور طاقت بڑھتی چلی جارہی ہے۔آپ کوئی وقت لے لیں اگر انہوں نے اس وقت کی طاقت کے مطابق اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا دیا تو وہ قوم اس وقت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے انتہائی انعامات کی وارث بن گئی لیکن اگر بعض نے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا دیا اور وہ دائرہ استعداد کی حد بندی کرنے والی آخری لکیر تک پہنچ گئے اور بعض نے اپنی طاقت کی انتہا تک قربانیاں نہ دیں تو بحیثیت مجموعی قوم یا جماعت ان انعامات کی وارث نہیں بن سکتی ، جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے (اس حساب میں منافقین کو اس گروہ سے باہر سمجھنا پڑے گا)۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعى - وَ آنَ سَعْيَهُ سَوْفَ يُری۔ایسا شخص جو اپنی استعداد کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے وہ اپنی کوشش کا نتیجہ ضرور دیکھے گا اور اس کی سعی کے مطابق جزاء اوفی یعنی پوری جزاء اسے ضرور ملے گی۔وَ أَنَّ إلى رَبِّكَ الْمُنْتَھی۔اسے اپنی کوشش پر نازاں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بعض ایسی کمزوریاں ہوتی ہیں جو انسان کی نظر میں نہیں ہوتیں اور اس کی عقل میں نہیں آسکتیں لیکن کمزوری ہوتی ہے۔یہ فیصلہ کرنا کہ اس شخص یا جماعت نے اپنی طاقتوں اور وقتی نشوونما کے مطابق بغیر کسی کمزوری کے ( کمزوری ایمان ہو یا کمزوری عمل یا کمزوری فہم ) خدا کے حضور اپنی انتہائی قربانی پیش کر دی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔انسان یہ کر ہی نہیں سکتا اس کی نگاہ دوسروں کے سلسلہ میں بھی متعصبانہ ہو سکتی ہے اور اپنے حق میں تو انسان بڑا سخت متعصب بن جاتا ہے کرتا تھوڑا