انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 372
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۷۲ سورة النجم د اور مطہر ہے وہ۔خدا تعالیٰ کہتا ہے دیکھو۔وہ کس طرح خدا پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اور یہ و کفی پتے إثْمًا مُّبِينًا کھلا کھلا گناہ ہے۔ایک دوسرے کو یا اپنے آپ کو متقی اور پر ہیز گار قرار دینا ، خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا انه مبین ہے، ایک ایسا گناہ کرنا ہے جو چھپی ہوئی بات نہیں، کھلی بات ہے۔اس واسطے کہ پاک اور متقی کے معنی ہی یہ ہیں کہ جو خدا کی نگاہ میں پاک اور متقی ہو۔پاک اور متقی کے معنی اسلامی تعلیم کی رو سے یہ نہیں کہ کوئی جماعت کسی دوسری جماعت کو پاک اور متقی قرار دے دے۔پاک اور متقی کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی شخص پاک اور متقی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کو پاک اور متقی قرار نہیں دیتا اور ایک شخص یا ایک گروہ یا ایک علاقہ یا ساری دنیا مل کے کسی کو پاک اور متقی قرار دے تو وہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے اور کھلم کھلا گناہ ہے۔بہت سی اور آیات ہیں جن میں اس مضمون کے بعض دوسرے پہلو بیان کئے گئے ہیں۔ان میں سے میں نے تین کو اٹھایا ہے۔اس واسطے انسان کا جو کام ہے وہ انسان کو کرنا چاہیے اور انسان کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرے کبھی تکبر نہ کرے کبھی کسی سے خود کو بڑا نہ سمجھے کبھی گھمنڈ اور فخر اس کے دل میں پیدا نہ ہو۔نہ دنیوی برتریاں، جو دنیا کی نگاہوں میں ہیں ان کے نتیجہ میں ، نہ دین میں جب دین خدا اسے عطا کرے، نا مجھی کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کی تلاش کرنے کی بجائے جو دعا کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے نتیجہ میں ہوتے ہیں خود ہی فیصلہ کرنا شروع کر دے کہ میں یا فلاں لوگ جو ہیں وہ پر ہیز گار اور متقی ہیں۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۹۶ تا ۹۸) انسان خدا سے دور ہو کر ہی انانیت کا چولہ نہیں اوڑھتا اور تکبر اور فخر اور اپنے آپ کو کچھ سمجھنے کی لعنت میں مبتلا نہیں ہو جاتا اور خدا سے دوری کی راہوں کو اختیار کرنے کے بعد ہی اس قسم کی انا کا، انانیت کا مظاہرہ نہیں کرتا جس قسم کی انانیت کا مظاہرہ فرعون نے آنا رَبَّكُمُ الْأَعْلَى (النزعت : ۲۵) کہہ کر کیا تھا بلکہ خدا پر ایمان لانے کے بعد بھی اس ابتلا کا دروازہ انسان پر کھلا رہتا ہے۔اسلام نے مذہب کی جو بنیادی حقیقت ہمیں سمجھائی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا کام ہے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے پر اخلاص کے ساتھ اور نیک نیتی کے ساتھ ان اعمال کو وہ بجالائے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ بجالا ؤ اور ان سے اجتناب کرے جن سے بچنے کے لئے حکم دیا گیا ہے۔اعمال کو قبول کرنا یا