انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 371
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة النجم فیصلہ کرنا کہ متقی کون ہے اسی ہستی کا کام ہے جو اس وقت سے زمین کے ذروں کو جانتا ہو جس نے جسم بننا ہے اور جو ماں کے رحم میں بچہ کروٹیں لے رہا ہے (اس میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے ایک وقت کے بعد ) صرف اللہ جانتا ہے۔نہ ماں جانتی ہے نہ باپ جانتا ہے نہ خود بچہ جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے آئندہ؟ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ صرف مجھے اختیار ہے اور مجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس کا کام ہے کہ وہ کسی شخص کو متقی قرار دے، کسے متقی قرار نہ دے۔اگر کوئی شخص یہ دعوی کر دے جنون کی کسی حالت میں کہ میں بھی ان ذرات کے وقت سے جب ابھی جسم نہیں بنے تھے جانتا ہوں بعض لوگوں کو اور ماں کے پیٹ میں جب وہ کروٹیں لے رہے تھے اس وقت سے میں جانتا ہوں اور میں متقی قرار دیتا ہوں، یہ تو جنون ہو گا۔ہر آدمی کہے گا کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے اور تیرے حواس کو درست کرے۔پس اعلان یہ ہو گیا قرآن کریم میں کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے جو اس وقت سے تم کو جانتا ہے کہ تم زمین میں مادی ذرات کی شکل میں تھے۔پھر اس نے تمہیں اکٹھا کیا اور ایک جسم دیا۔انسان کو خلق کیا اور احسن صورت بنائی دوسری آیت میں ہے۔اس وقت سے جانتا ہے جب یہ احسن صورت بنانے کی Process شروع ہو چکی تھی ماں کے پیٹ میں۔وہ جانتا ہے کہ اس نے تمہیں کون سی صلاحیتیں اور قوتیں اخلاقی اور روحانی طور پر دیں وہ جانتا ہے کہ تم نے انہیں ضائع کر دیا یا ان کی صحیح نشوو نما کر کے اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کیا۔یہ بات خدا کا پیار ملایا نہیں ملا یہ تو خدا ہی بتا سکتا ہے نا۔اس واسطے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ یہ حکم دے دیا۔اور سورہ نساء میں یہ فرمایا - اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُونَ اَنْفُسَهُمْ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا انْظُرُ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَكَفَى بِهِ اِثْمًا مُّبِينًا (النساء: ۵۱،۵۰) کیا تجھے ان لوگوں کا حال معلوم نہیں جو اپنے آپ کو پاک قرار دیتے ہیں۔ان کا یہ حق نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ جسے پسند کرتا ہے اسے پاک قرار دیتا ہے۔وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انظرُ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ کہ دیکھ وہ کس طرح اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں۔جب وہ کسی کو پاک اور مطہر قرار دیتے ہیں تو اس کا تو مطلب یہ ہے نا کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پاک