انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 369
۳۶۹ سورة النجم تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ایک ایسی قوم پیدا کی جس نے ساری دنیا کے ساتھ جنگ کو قبول کیا لیکن حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی محبت کا رشتہ قطع نہیں کیا اس فرزند جلیل کے اس روحانی رتبہ کی وجہ سے جو ساتویں آسمان پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نیچے ہے اس سے ختم نبوت میں کیسے خلل پڑ گیا؟ یہ ایک سمجھنے کی بات ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کو سمجھ عطا فرمائے۔باقی ہم سمجھتے ہیں کہ جو شخص یہ مسئلہ نہیں سمجھتا وہ دراصل بغض کی وجہ سے یا جہالت کے نتیجہ میں یا تعصب کی وجہ سے یا روحانی اقدار حاصل نہ کرنے کے نتیجہ میں ایسا کرتا ہے کیونکہ امت محمدیہ کے علماء دو مختلف ( علمائے ظاہر اور علمائے باطن کے گروہوں میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔پہلے لوگوں نے بھی ان کے متعلق یہی کہا ہے اور اب بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ایک وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم سکھایا اور ایک وہ ہے جس نے خدا سے سیکھے ہوئے کو یاد کیا سمجھ کر اور کچھ بغیر سمجھے کے، دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔میں اس وقت اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔بہر حال ہم بھی حضرت محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور آخری نبی مانتے ہیں اور اس محکم یقین پر قائم ہیں کہ کوئی شخص روحانی رفعتوں کے لحاظ سے پہلے، دوسرے تیسرے، چوتھے ، پانچویں، چھٹے اور ساتویں آسمان تک پہنچنے کے باوجود مقام ختم نبوت میں خلل انداز نہیں ہو سکتا ساتویں آسمان پر پہنچ کر اس کا مقام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے نیچے مگر آپ کے قریب تر مقام ہوگا کیونکہ چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے درمیان ایک پورا ساتواں آسمان حائل ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام وہ قرب نہیں پاسکے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پایا تھا اسی واسطے ان کے دل میں جب یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس تجلی کو دیکھیں جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی تھی تو اس کے ہزارویں حصہ سے بھی تھوڑی سی جھلک کے نتیجہ میں خَرِّ مُوسى صَعِقًا (الاعراف: ۱۴۴) یعنی حضرت موسی علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کو یہ نظارہ دکھایا لیکن جو شخص ساتویں آسمان پر پہنچ گیا وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہے۔آپ سے نیچے ہے بعد نہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی قرب اور آپ کے قدموں کی خاک میں بیٹھنا میرے لئے فخر کا موجب ہے۔وہ آپ کے احترام کے منافی کس طرح بات کرنے والا سمجھا جاسکتا ہے۔وہ تو آپ کے پیار میں