انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 368
۳۶۸ سورة النجم تفسیر حضرت خلیفة السبع الثالث کا روحانی رفعتوں کے حصول پر ساتویں آسمان تک پہنچ جانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام محمدیت میں رخنہ اندازی کرنے والا نہیں ہے بلکہ آپ کی عظیم روحانی مہمات میں ممد و معاون بننے والا ہے۔جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نسل کو حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کیا تھا اگر اسی طرح آج بھی آپ کا کوئی روحانی فرزند ایک ایسی جماعت کو تیار کرنے کیلئے کھڑا ہو جو پہلوں کی طرح یا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کی طرح اپنی جانوں کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربان کرنے والے ہوں اور اس وجہ سے وہ شخص یعنی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرزند جلیل حضرت ابراہیم کے ساتھ ساتویں آسمان تک پہنچ جائے تو کوئی جاہل ہی یہ کہے گا کہ اس سے خاتم النبیین کے اندر رخنہ پڑ گیا اور خلل واقع ہو گیا۔نہ پہلے آنے والوں کے نتیجہ میں رخنہ پڑا اور نہ بعد میں آنے والے امتی اور ظلی نبی کے آنے پر خلل واقع ہوسکتا ہے۔آخری نبی کا یہی وہ مقام یعنی مقام محمدیت ہے جس کی رو سے ہم حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی سمجھتے ہیں اور ہم آپ کے اس قول پر بھی یقین رکھتے ہیں جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ دیکھو تم میں سے جو بھی تو اضع اور عاجزی اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو روحانی طور پر رفعتیں عطا فرمائے گا مگر ایک وہ بھی ہوگا إِذَا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاء السابعة - ( كنز العمال جلد ۲ صفحہ ۲۵) جس کی عاجزی اور تواضع جس کی اطاعت محمد اور فنا فی محمد کا رتبہ اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہوگا۔وہ عجز کے انتہائی مقام، تواضع کے انتہائی مقام اور عشق محمدؐ کے انتہائی مقام سے سرفراز ہوگا۔دراصل عجز اور انکساری عشق کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔پس جس کی یہ کیفیت ہوگی اِذا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ اس کے متعلق خدا وعدہ کرتا ہے۔رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ کہ اللہ تعالیٰ اُسے ساتویں آسمان تک پہنچا دے گا اور اُسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلو میں لے جا کر کھڑا کر دے گا۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام روحانی رفعتوں کے لحاظ سے ساتویں آسمان پر پہنچے لیکن وہ پاک وجود جس نے عرش رب کریم پر جگہ پانی تھی اور ختم نبوت سے مشرف ہونا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رفعتیں آپ کے اس مقام میں رخنہ ڈالنے والی نہیں تھیں تو آپ کا وہ فرزند جلیل جس نے اپنی زندگی کا ہرلحہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا اور غلبہ اسلام کے لئے جس کی تڑپ نے اور جس کے دل میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار نے اور جس کی متضرعانہ دعاؤں نے