انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 356
تفسیر حضرت خلیفہ مسح الثالث ۳۵۶ سورة الذاريات ہے وہ اُن کے پاؤں کی آواز سے دفعہ اُٹھا اور ان کے پیچھے بھا گا یہ آگے آگے تھے اور وہ اُن کے قدم بقدم پیچھے پیچھے آرہا تھا جس وقت اُس بزرگ کی عبادت گاہ کے قریب پہنچے جن کی قرآت اُن کو اچھی نہیں لگی تھی اور جن کے متعلق ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ جو شخص سورہ فاتحہ کی تلاوت بھی صحیح نہیں کر سکتا وہ بزرگ کیا ہوگا وہ اُس وقت اپنی عبادت گاہ سے باہر نکل رہے تھے وہ آگے بڑھے اور شیر کے کان پکڑ لئے اور اس کو کہنے لگے کہ اللہ کے کتو ! کیا میں نے تمہیں یہ کہا نہیں ہوا کہ تم نے میرے مہمانوں کو تنگ نہیں کرنا شیر دُم ہلارہا تھا اور اُن کو کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔چنانچہ جب اُنہوں نے شیر سے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ تو وہ فوراً وہاں سے چلا گیا پھر وہ ان سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے کہ تم لوگ ظاہر کا زیادہ خیال رکھتے ہو اور ریاء سے بچتے نہیں اس لئے مخلوق خدا سے خوف کھاتے ہو پھر انہوں نے بڑے نمایاں رنگ میں اور بڑے عجیب طریق پر ان کو سمجھایا کہ دیکھو صرف ظاہر کے خیال رکھنے کی وجہ سے مخلوق خدا سے ڈرلگتا ہے مگر ہم لوگ باطن کا خیال رکھتے ہیں اس واسطے خدا کی مخلوق کا خوف نہیں کھاتے۔اللہ تعالیٰ کی بندگی میں ڈوبے رہتے ہیں اس کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے مقابلے میں ہر چیز کو ایک مُردہ سمجھتے ہیں۔پس جو خالص توحید ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا ہر دوسری مخلوق کو اپنی ذات میں مردہ اور نیست سمجھا جائے کیونکہ ایسا شخص اس حقیقت پر قائم ہوتا ہے کہ انسانی حیات اور بقا اور اُس کا قیام اللہ تعالیٰ کے فضل کے سہارے کا محتاج ہے اور زندگی کا دارو مدار اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔اگر وہ زندہ نہ رکھنا چاہے تو کوئی مخلوق فنا کا لباس پہنے بغیر رہ نہیں سکتی اور باقی بھی وہی رکھتا ہے کیونکہ وہ قیوم بھی ہے اسی کی ذات سے دنیا اور اس کی اشیاء قائم ہیں۔پس جو توحید خالص پر قائم ہو اُس کو شیر سے ڈر نہیں لگتا۔شیر تو پھر بھی ناسمجھ جانور ہے اس کو سارے کفار مکہ سے بھی ڈر نہیں لگتا آخر سارے کفار بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں اکٹھے ہو گئے تھے مگر اس پاک وجود صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مات کھا گئے۔اسی طرح آپ کے جو تبع اور آپ سے محبت کرنے والے اور فدائی اور جاں نثار خادم ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق سے خوف نہیں کھاتے اس لئے کہ ان کے آقا اور مطاع اور محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توحید حقیقی پر قائم کر دیا ہے۔پس بہت سے ظاہری سجدے کرنا اور روزے رکھنا یا اسراف کرتے ہوئے اموال کو خرچ کرنا اور ظاہر یہ کرنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کو