انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 355 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 355

تفسیر حضرت خلیفہ مسح الثالث ۳۵۵ سورة الذاريات بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - فرمایا انسانی زندگی کا مقصد عبودیت تامہ کو اختیار کرنا یعنی عبد کامل بننا ہے باقی چیزیں تو بطور لوازم اور نتائج کے ہیں۔یہ انسان کو مل جاتے ہیں لیکن انسانی پیدائش کی اصل غرض یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ اور حقیقی تعلق پیدا ہو جائے۔یہ عبادت ہی ہے جس کا حکم دیا گیا ہے اور اس آیت میں بھی جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے خالص عبادت ہی انسانی زندگی کا اصل مقصد ٹھہرایا گیا ہے لیکن بعض لوگ عبادت کے مفہوم کو یا اس فقرے کے مفہوم کو کہ انسان عبودیت تامہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اسی راہ کو اسے اختیار کرنا چاہیے سمجھتے نہیں۔بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بڑی لمبی لمبی اور دکھاوے کی نمازیں ادا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پرستش اور اس کی عبادت کا حق ادا کر رہے ہیں یا بڑی کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کی راہ میں بڑا مجاہدہ کر رہے ہیں یا اور دوسرے نیکی کے کام جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں اُن کے ظاہر پر زور دینے لگ جاتے ہیں مگر حقیقت نماز سے نا آشنا اور حکمت روزہ سے بے خبر ہوتے ہیں۔اس قسم کی عبادت عند اللہ عبادت متصور نہیں ہوتی۔مجھے اس وقت ایک بزرگ کا واقعہ یاد آ گیا ہے۔حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کشف المحجوب میں لکھا ہے کہ ایک شخص بڑے بزرگ تھے لیکن ابھی گہرائیوں میں ان کی پہنچ نہیں ہوئی تھی۔وہ نیکیوں کے ظاہر پر بڑا زور دیتے تھے۔ایک دفعہ وہ ایک اور بزرگ سے جن کی بڑی شہرت تھی ملنے گئے جب یہ وہاں پہنچے تو مغرب کی نماز ہو رہی تھی۔یہ بھی نماز میں شامل ہو گئے مگر یہ بزرگ جو نماز پڑھا رہے تھے اور جن کی اُنہوں نے بڑی شہرت سنی ہوئی تھی اور جن کی ملاقات کے لئے یہ صاحب ایک لمبا سفر طے کر کے وہاں پہنچے تھے وہ سورہ فاتحہ کی تلاوت بھی صحیح نہیں کر رہے تھے چنانچہ یہ بڑے مایوس ہوئے اور اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ میں نے اتنے لمبے سفر کی تکلیف بلا وجہ اور بے فائدہ اُٹھائی ہے۔رات یہاں گزارتا ہوں صبح واپس چلا جاؤں گا۔اُنہوں نے شاید استغفار بھی کی ہوگی کہ بڑا گناہ ہو گیا ہے۔چنانچہ صبح سویرے اُٹھے دریا قریب تھا دریا کی طرف جارہے تھے تا کہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر وضو کر کے عبادت کریں مگر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شیر راستے میں سویا ہوا