انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 354 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 354

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۳۵۴ سورة الذاريات اور اس بشری کمزوری کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے ذمہ دار افراد کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ حقیقی مومنین کے سامنے ان کی ذمہ داریاں بار بار لا یا کرو اور انہیں یاد دلاتے رہا کرو تا کہ وہ اس یاد دہانی سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کریں۔(خطبات ناصر جلد اول صفحه ۲۰۴ آیت ۵۷ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ® انسانی پیدائش کی غرض صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے عبودیت کا ایک حقیقی تعلق پیدا کیا جائے۔اس بنیادی غرض کے حصول کے علاوہ باقی جو بھی مقاصد حاصل ہیں وہ انسانی پیدائش کی غرض اور مقصد نہیں لیکن ان کا ایک طبعی نتیجہ ضرور نکلتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض یہ نہیں ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہو اس کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ اس کا اپنے رب سے حقیقی اور زندہ تعلق قائم ہو جائے۔جب اُس کا اپنے رب سے حقیقی اور زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے تو گناہوں سے وہ خود بخود پاک ہو جاتا ہے کیونکہ پھر اس کا دل اور اس کی روح کسی ایسے فعل کے کرنے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتی جو اس کے پیدا کرنے والے محبوب خدا کو نا پسند ہو۔اسی طرح انسان کی پیدائش کی غرض یہ بھی نہیں کہ انسان نجات حاصل کرے۔حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ انسانی پیدائش کی اصل غرض یہ ہے کہ انسان کو عبودیت تامہ کا شرف حاصل ہو جائے کیونکہ جب ایک انسان اپنے رب کا حقیقی رنگ میں اور کامل طور پر بندہ بن جاتا ہے تو نجات تو اُسے خود بخو دل جاتی ہے۔نجات تو اس عبودیت تامہ کا ایک طبعی نتیجہ سمجھنا چاہیے لیکن صرف نجات مقصدِ حیات انسانی نہیں اور نہ پاکیزگی اختیار کرنا اور گنا ہوں سے بچنا مقصد حیات ہے۔مقصدِ حیاتِ انسانی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی عبودیت تامہ کو اختیار کرے۔اس کا حقیقی عبد بن جائے پھر وہ کسی ایسے گناہ میں مبتلا نہیں ہوگا جو اُس کے رب کو نا پسند ہو اور وہ ایسا کام نہیں کرے گا جو اُس کے ربّ سے اُسے دور لے جانے والا ہو۔ہر وہ چیز جس کی وہ خواہش کرے گا وہ اُسے مل جائے گی اور وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کی عبودیت تامہ کے نتیجہ میں ایک ابدی سرور اور ایک دائمی لذت کو حاصل کرے گا۔نجات تو اس کو مل جائے گی لیکن وہ نجات کے لئے پیدا نہیں کیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد