انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 349
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۳۴۹ سورة الذاريات لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ ان کے پاس جن کے حقوق کی ادائیگی کے سامان ہیں پڑے ہوئے ان سے لو اور دویا وہ آپ دے دیں۔خدا کی رضا کو حاصل کریں۔قرآن کریم یہ کہتا ہے اصل تو یہ ایک فقرہ ہے جس کے لئے میں نے یہ خطبہ آج پڑھا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب انسانوں کے ایک طبقہ کو ان کے مناسب حال اور متوازن غذا نہ ملے اور اس سے وہ محروم ہوں تو سب دولتمند ان کے برابرلا کے کھڑے کر دیئے جائیں۔وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالمَحرُوم میں بڑا عظیم اعلان ہوا ہے۔خدا یہ کہتا ہے کہ اگر مثلاً کوئی ملک اس کو ہم کہتے ہیں ”جیم ہر نام لے دیتے ہیں۔اس کی اسی فیصد آبادی جو ہے اس کو مناسب حال متوازن غذا نہیں ملتی تو جب تک اس طبقہ کو مناسب حال متوازن غذا نہیں ملتی کسی امیر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان سے بڑھ کے کھائے۔وہاں لا کے کھڑا کر دیا جائے گا کہ جیسا یہ کھائے گا ویسا وہ کھائے گا۔تمام امرا اور دولتمند صاحب ثروت جو ہیں ان کو دکھ اور تکلیف میں غریب کے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑا کر کے سو فیصد ان کا شریک حال بنادیا۔شریک غم بنا دیا ان کا اور ان امیر کو یہ کہا ہم نے تمہیں بڑا دیا۔جب ان کو مناسب حال متوازن غذا مل جائے پھر اپنی مرضی کی کھا۔تیرے اوپر کوئی پابندی نہیں۔بعض دوسری Extreme پر چلے گئے ہیں۔خیالات فلاسفی، ازم جو ہیں وہ کہتے ہیں کسی کو بھی اس کی مرضی کا نہیں کھانے دیں گے۔یہ غلط ہے۔قرآن کریم کہتا ہے فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ ہر شخص کو اس کا حق ادا کرو۔پھر جوزائد تمہارے پاس ہے پھر اپنی مرضی چلا لو اس کے اندر اور پھر جب اپنی مرضی چلانے کا وقت آئے گا پھر خدا کہتا ہے جب اپنی مرضی چلا رہے ہو تو اپنی عارضی خوشیوں کا خیال رکھنے کی بجائے اپنی ابدی خوشیوں کا خیال رکھو۔پھر ان کو آگے وہ نعمتیں بیان کر کے وہ خدا تعالیٰ کے فضل بیان کر کے، خدا تعالیٰ کی جو رحمتیں اس زندگی میں نازل ہوتی ہیں ان کے نمونے نازل کر کے اس رنگ میں خدا تعالیٰ پیار کرے گا مرنے کے بعد اپنے ایک پیارے بندے کو اپنی رضا کی جنت میں لے جاکے اس کا ایک نمونہ مثلاً یہ اس کو بتا دیتا ہے کہ وقت سے پہلے اس کو بشارت دے دیتا ہے اور وقت سے پہلے اس کو یہ تنبیہ کر دیتا ہے کہ یہ بات نہ کرو ورنہ تمہیں تکلیف ہوگی۔وقت سے پہلے بتا دیتا ہے کہ مثلاً اس ہوائی جہاز میں نہ جاؤ تمہاری جان کو خطرہ ہے۔ایسے بھی لوگ ہیں میں نے ایسے واقعات پڑھے ہیں۔تو وہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ساروں کو ان کے حقوق ادا کرو پھر اگر تمہارے پاس فالتو بچتا ہے پھر